Monday , September 24 2018
Home / مذہبی صفحہ / شوہر کی کمائی اورملازم بیوی

شوہر کی کمائی اورملازم بیوی

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح ہندہ سے کیا جو ملازمت کرتی ہے۔ اب زید کا ادعا ہے کہ اس (زید) کی کمائی میں بیوی کا کوئی حق نہیں اور بیوی کی کمائی میں اس (زید) کا حق ہے۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح ہندہ سے کیا جو ملازمت کرتی ہے۔ اب زید کا ادعا ہے کہ اس (زید) کی کمائی میں بیوی کا کوئی حق نہیں اور بیوی کی کمائی میں اس (زید) کا حق ہے۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
جواب : شریعت مطھرہ نے شوہر پر بیوی کا نفقہ واجب کیا ہے، نفقہ میں ، لباس ، طعام ، رہائش اور حسب ضرورت ملازم وغیرہ داخل ہے۔ بیوی محتاج ہو یا مالدار ہو ہر صورت میں اس کا وجوب ہے۔ تاتار خانیہ جلد ۴ ص۱۸۳ میں ہے: وفی الخانیۃ : تجب علی الرجل نفقۃ امرأتہ المسلمۃ والذمیۃ والفقیرۃ والغنیۃ… والنفقۃ الواجبۃ المأ کول والملبوس والسکنیٰ … و کذا خادم تحتاج الیہ۔ در مختار برحاشیہ ردالمختار جلد دوم ص ۷۰۰ میں ہے: (فتجب للزوجۃ) بنکاح صحیح… (علی زوجھا ) ( لانھا جزاء الا حتباس … (ولو صغیرا) (لایقدر علی الوطئی) ( فقیرا ولو) کانت (مسلمۃ أو کا فرۃ… (فقیرۃ أو غنیۃ مؤطوئۃ اْولا)۔
حسب صراحت بالا نفقہ کے علاوہ جو مال زید (شوہر) کا ہے اس کا مالک زید ہے اور اس میں زوجہ کا کوئی حق نہیں۔ اسی طرح بیوی مالدار ہو تو اس کا کل مال اسی کی ملک ہے اس میں شوہر کا شرعاً کوئی حق نہیں۔ البتہ بعد وفات ہر دو ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور حسب حکم شرعی حصہ پائیں گے۔ لہذا زید کا ادعا غیر درست ہے۔
رہن کے مکان سے استفادہ کرنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید صاحب کا ایک منزلہ بنگلہ ہے۔ پہلی منزل میں مکاندار رہائش پذیر ہے۔ گراؤنڈ فلور دو لاکھ پچاس ہزار میں رہن رکھ کر بکر صاحب کے حوالے کیا گیا ہے چند ماہ بعد رہن دار کو ماہانہ کرایہ ایک ہزار روپیہ اصل کرایہ سے کم کر کے رہن شدہ مکانیت کا مکاندار کو ادا کر رہا ہے جس کا علم ڈرینج پائپ کی صفائی کے سوال پر اختلافات و نزاع پیدا ہونے پر ہوا ہے۔ ہر فریق اپنی بات پر اڑا ہوا ہے اور اپنی وقار کا مسئلہ بنالیا ہے اور اختلافات گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
۱۔کس حد تک مکاندار ماہانہ کرایہ ہزار روپیہ مکان رہن پر دینے کے باوجود لینے میں شرعاً حق بجانب ہے۔
۲۔کس حد تک رہن دار ماہانہ کرایہ مکان رہن پر لینے کے باوجود مکاندارکو ادا کرنے پر حق بجانب ہے شرعاً معاہدہ میں کرایہ کے دینے اور لینے کا ذکر نہیں ہے۔
۳۔ عام تاثر یہ ہے کہ مکان دار کرایہ کی شکل میں سود وصول کر رہا ہے اور رہن دار ڈھائی لاکھ روپیہ مکاندار کے پاس جمع کروانے کے باوجود جبراً ہزار روپیہ مہینہ سود ادا کر رہا ہے۔
جواب : صورت مسئول عنہا میں راہن (مکان کا مالک) اور مرتھن (رقم دیکر رہن رکھنے والے) دونوں کا مکان مرہونہ سے استفادہ کرنا درست نہیں۔ قرض دینے والے نے مکان کے کرایہ میں کمی کو اس بناء پر قبول کیا ہے کہ یہ کمی اس رہن کا نفع ہے اگر مالک اس کمی کو اس کے لئے روانہ کرتا تو وہ اس کو ہرگز رقم نہ دیتا تو پس یہ صورت بعینہ شرط کی ہے جو ناجائز ہے۔رد المحتار جلد ۵ ص۳۲۰ میں ہے : والغالب من احوال الناس انھم انما یریدون عنہ الدفع الانتقاع ولو لاہ لما أعطاہ الدراھم وھذا بمنزلۃ الشرط لأن المعروف کالمشروط وھو مما یعین المنع۔
بہر صورت رہن کے مکان سے استفادہ درست نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT