Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / شوہر کے ہاتھوں اسقاط حمل کی جبری طور پر گولیاں کھیلائے جانے کے بعد خاتون کی موت

شوہر کے ہاتھوں اسقاط حمل کی جبری طور پر گولیاں کھیلائے جانے کے بعد خاتون کی موت

لدھیانہ: ایک حاملہ خاتون کو اس کے شوہر ارویندر سنگھ اور اس کے بھائی نے لدھیانہ میں 25جون کو اسقاط حمل کی جبراً گولیاں کھلائیں جس کے سبب خاتون کی موت واقعہ ہوگئی ۔ اس کے علاوہ مذکورہ دونوں لوگوں نے متوفی کا خاتون کا پیٹ کابھی دبایاتھا۔خاتون کے گھر والوں کا دعوی ہے کہ مذکورہ اشخاص نے اس لئے ان کی بیٹی کو ماردیا کیونکہ انہیں پتہ چلاگیا تھا کے خاتون کے حمل میں لڑکی تھی۔

جس کااندازہ ہونے انہیں ایک مخصوص ٹسٹ کے ذریعہ ہوا تھا۔کوئنٹ کی خبر کے مطابق سال2013میں مذکورہ خاتون نے ایک لڑکی کو جنم دیا تھا اور یہ دوسری لڑکی تھی۔پولیس نے کہاکہ ان شک ہے کہ اس قسم کی کوئی طبی جانچ کی گئی ہوگی۔متوفی کے والدین اور ارویندر سنگھ دونوں مذکورہ طبی جانچ کے ملزم ایک دوسرے کو ٹھرا رہے ہیں‘ متوفی کی ماں نے کہاکہ’’ جب ہم جندی گاؤں پہنچے تو ہم نے پایا کے اس کی نعش ٹھنڈے بکسے میں رکھی ہوئے ہے اور ساتھ میں نوزائید بھی کپڑے میں لپٹے ہوئے ہے‘‘۔

درایں اثناء پولیس نے دو لوگوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی ایس ایس پی جاگرون سرجیت سنگھ نے کہاکہ’’ ہم نے دونوں ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے۔ ہم اس معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں کہ اس میں کوئی اور بھی ملوث ہے۔ ملزم نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ اس نے اسقاط حمل کی گولیاں خریدی تھی۔ابھی اس بات کا جانکاری حاصل کرنا باقی ہے کہ نوزائید کی پہنچان کے لئے کوئی طبی معائنہ کیاگیا تھا یا نہیں جس کے ذریعہ معلوم کیاجاسکے کہ پیٹ میں پلنے والا نوزائید لڑکا ہے لڑکی‘‘۔

اس جوڑے کی ملاقات2011میں انٹرنیشل انگلش لینگوئج ٹسٹنگ سسٹم( ائی ای ایل ٹی ایس) کے کوچنگ سنٹر پر ہوئی تھی اور اسی سال دونوں نے شادی کرلی۔ پہلے بچے کے طور پر لڑکی کی پیدائش پر ارویندر سنگھ ناخوش تھا۔متوفی منجیت کے والد برویندر سنگھ جو ریٹائرڈ فوجی صوبیدار ہیں نے کہاکہ ’’ پہلی بار لڑکی پیدا ہونے پر ارویندر نے متوفی کو پیٹا تھا۔ منجیت ہر ماہ گھریلوتشدد کی ایک نئی شکایت کے ساتھ ہمار ے گھر آتے تھی‘‘۔

باؤ سنگھ جو آسی کلان کواپراٹیوسوسائٹی کے صدر ہیں جہاں پر متوفی کے والدین کا قیام ہے نے بتایا کہ ’’ جب ایک بار ارویندر اپنی بیوی کو پیٹ رہا تھا تو اس وقت میں نے بیچ بچاؤ کیاتھا‘‘۔جون2016میں پولیس نے دونوں خاندانوں کے درمیان تنازع کو سلجھانے کاکام بھی کیاتھا۔

TOPPOPULARRECENT