شکتی ملز عصمت ریزی کیس، 3 خاطیوں کو سزائے موت

ممبئی 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) شکتی ملز عصمت ریزی کیس میں 3 نوجوانوں کو آج یہاں سیشن عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ عصمت ریزی کا ارتکاب کرنے والے ملزم پر پہلی مرتبہ تعزیرات ہند کے ترمیم شدہ دفعہ کا اطلاق عمل میں لایا گیا ہے۔ اِس دفعہ کے تحت خاطیوں کو سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ نیا متعارف کردہ قانون 376(e) کے تحت خاطیوں کو نقاب پہناکر لیج

ممبئی 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) شکتی ملز عصمت ریزی کیس میں 3 نوجوانوں کو آج یہاں سیشن عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ عصمت ریزی کا ارتکاب کرنے والے ملزم پر پہلی مرتبہ تعزیرات ہند کے ترمیم شدہ دفعہ کا اطلاق عمل میں لایا گیا ہے۔ اِس دفعہ کے تحت خاطیوں کو سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ نیا متعارف کردہ قانون 376(e) کے تحت خاطیوں کو نقاب پہناکر لیجایا گیا۔ اِس میں اقل ترین سزا موت ہے۔ ترمیم شدہ قانونی دفعات کا ڈسمبر 2012 ء میں دہلی کے المناک اجتماعی عصمت ریزی کیس کے بعد اطلاق عمل میں لایا جارہا ہے۔

3 خاطیوں کو اِس کیس میں سزائے موت دی جارہی ہے۔ گزشتہ سال اگسٹ میں ایک فوٹو جرنلسٹ کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی تھی۔ ایک ٹیلیفون آپریٹر کی عصمت ریزی کے لئے اِنھیں عمر قید کی سزا دی گئی۔ جج شالینی پنسلکر جوشی نے 19 سالہ وجئے جادھو ، 21 قاسم بنگالی اور محمد سلیم انصاری 28 سالہ کو سزائے موت دیتے ہوئے یہ استفسار کیاکہ اِس کیس میں اگر اِنھیں سزائے موت نہ دی جائے تو پھر کس کیس میں دی جائے گی۔ اِنھیں پھانسی پر اُس وقت تک لٹکادیا جائے تاوقتیکہ اُن کی سانس اُکھڑ جائے۔ جنسی ہراسانی سماج کی لعنت بن رہی ہے۔ ایسی گھناؤنی حرکت کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دی جانی چاہئے۔ جج کو انصاف کی تلوار استعمال کرتے وقت پس و پیش نہیں کرنا چاہئے۔ جب کیس کا تقاضہ ہی ایسا ہو تو جج بھرپور انصاف سے کام لے سکتا ہے۔

چوتھے ملزم سراج رحمن کو اِس کیس میں صرف مواخذہ کیا گیا اور عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ جج جوشی نے دیگر 4 ملزمین کے خلاف بھی مختلف سزاؤں کا اعلان کیا اور اِن پر جرمانے بھی عائد کئے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ جرم نہایت ہی گھناؤنا تھا، اِسے منصوبہ بند طریقہ سے انجام دیا گیا۔ جج نے کہاکہ ملزمین نے ایک مجبور لڑکی کے ساتھ کوئی رحم دلی نہیں دکھائی اور ہم بھی انھیں موت کی سزا دینے میں کوئی رحم سے کام نہیں لیں گے۔ اگر ہم اِنھیں سخت ترین سزا نہ دیں تو نظام عدلیہ پر سے ایک عام آدمی کا ایقان اُٹھ جائے گا۔ عام آدمی انصاف کی زبان کی ستائش کرتا ہے۔ اِس طرح کے گناہوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ گھناؤنے جرائم سے سختی سے نمٹنا ہی عدلیہ کا کام ہے۔ اگر رحم دلی کا مظاہرہ کیا گیا تو ہمدردی کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے اور پھر انصاف کا گلا گھونٹ دیا جائے گا۔ ممبئی میں دو اجتماعی عصمت ریزی کے واقعات پیش آئے تھے جس میں ایک ٹیلیفون آپریٹر خاتون تھی۔ دوسری فوٹو جرنلسٹ۔ یہ دونوں واقعات وسط ممبئی کے شکتی ملز کمپاؤنڈ میں چند ہفتوں کے اندر ہی پیش آئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT