Sunday , January 21 2018
Home / کھیل کی خبریں / شکست سے مایوس ممبئی کا ابھرتے حیدرآباد سے آج مقابلہ

شکست سے مایوس ممبئی کا ابھرتے حیدرآباد سے آج مقابلہ

ممبئی ۔ 24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آئی پی ایل کے سابق چمپیئنس ممبئی انڈینس 6 میچوں میں اپنی پانچویں شکست کے بعد یہاں کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں کل ہفتہ کو سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف کھیلے جانے والے اپنے میچ میں کامیابی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ مسلسل شکست سے مایوس ممبئی انڈینس کو رائیل چیلنجرس بنگلور کے خلاف 19 اپریل کو پہلی کامیابی حاصل ہوئ

ممبئی ۔ 24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آئی پی ایل کے سابق چمپیئنس ممبئی انڈینس 6 میچوں میں اپنی پانچویں شکست کے بعد یہاں کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں کل ہفتہ کو سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف کھیلے جانے والے اپنے میچ میں کامیابی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ مسلسل شکست سے مایوس ممبئی انڈینس کو رائیل چیلنجرس بنگلور کے خلاف 19 اپریل کو پہلی کامیابی حاصل ہوئی تھی جو رواں سیریز میں ان کیلئے تسلی بخش ثابت ہوئی اور اس حوصلہ افزائی کے ساتھ یہ ٹیم اپنی کامیابیوں کا سفر شروع کرنا چاہتی تھی لیکن دہلی ڈیرڈیولس کے خلاف 37 رن سے شکست نے اس کے خواب کو چکناچور کردیا۔ اس طرح آر سی بی نے اس کامیابی کے ساتھ اپنی مسلسل ناکامیوں کا سلسلہ توڑ دیا تھا۔ سن رائزرس ایک کمزور شروعات کے باوجود حالیہ کامیابی کے ساتھ رواں ٹورنمنٹ میں پانچویں مقام پر توجہ مرکوز کررہی ہے اور اس کے خلاف کامیاب مقابلہ کیلئے ممبئی انڈینس بھی اپنے کھیل کی حکمت عملی تبدیل کررہے ہیں۔

کپتان روہتر شرما نے بیٹنگ آرڈر میں بعض تبدیلیوں کو حق بجانب قرار دیا ہے لیکن ممبئی انڈینس ہنوز کوئی واضح جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔ آر ونتے کمار اور پون سویال جنہوں نے 12 اپریل کو کنگس الیون پنجاب کے خلاف بولنگ کا آغاز کیا تھا۔ گذشتہ روز فیروز شاہ کوٹلہ میں کھیلے گئے میچ سے باہر رکھے گئے تھے۔

ممبئی انڈینس کی کمزور بولنگ میں ایک حوصلہ افزاء پہلو یہی ہیکہ اس کے پاس لست ملنگا اور ہربھجن سنگھ ہیں، جنہوں نے دفاعی چمپیئنس کولکتہ نائٹ رائیڈرس کے خلاف 8 اپریل کو کھیلٹے گئے میچ میں ناقص مظاہرہ کے باوجود دوسرے کھیلوں میں بالعموم اچھا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن ممبئی انڈینس اپنے دیگر بولرس سے بھی اچھے کھیل کی امید کررہی ہے جو ہنوز صحیح انداز اختیار نہیں کرسکے ہیں۔ علاوہ ازیں آسٹریلیا کے جوش ہینرل ووڈ کی ٹیم میں عدم موجودگی بھی ممبئی انڈینس کے بولنگ محاذ پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے مچل ملک کلینھالیگن اگرچہ بہتر آل راونڈ مظاہرہ کررہے ہیں، لیکن ان ہی کے ہم وطن کوری اینڈرسن انگلی پر زخم کے سبب نہیں کھیلیں گے۔ بیٹنگ نسبتاً بہتر حالت میں نظر آئی ہے کیونکہ بذات خود روہت اس ذمہ داری سنبھال رہے ہیں لیکن بڑا اسکور بنانے کی کوشش میں صرف ایک شخص پر انحصار کے بجائے دیگر بیٹسمین کے مظاہرہ میں بہتری بھی قابل توجہ ہے۔ مہمان ٹیم (سن رائزرس) بھی پوری طرح مسائل سے پاک نہیں ہیں۔ ان کے پاس بھی بیٹنگ کے مسائل ہیں۔ اوپنرس شکھردھون اور کپتان ڈیوڈ وارنر بھی بھاری ذمہ داری رہے گی۔
جنہوں نے دو مرتبہ نصف سنچری اور ایک مرتبہ سنچری کی رفاقت کی تھی۔ روی بوپارا، کین ولیمسن، آشیش ریڈی، لوکیش راہول اور نمن اوجھا بھی اچھا کھیل سکتے ہیں۔ سن رائزرس بولنگ محاذ پر نسبتاً بہتر ہے جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹاکن نے ہنوز جارحانہ بولنگ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہیں نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ کے بجائے شامل کیا گیا ہے۔ بھوبنیشور کمار اور اترپردیش سے ہی تعلق رکھنے والے ان کے ساتھی پروین کمار کا اوسط مظاہرہ رہا لیکن کرن شرما اور پرویز رسول ہنوز کوئی وکٹ حاصل نہیں کرسکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT