شکست پر بھی یو پی اے کا اتحاد برقرار رہنے کا یقین

ممبئی 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )لوک سبھا انتخابات کے بعد یو پی اے کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کا یقین ظاہر کرتے ہوئے این سی پی کے صدر شرد پوار نے کہا کہ شکست کی صورت میں بھی یو پی اے متحد رہے گا اور کانگریس اپنی ناکامیوں کے بعد دوبارہ احیاء کی تاریخ رکھتی ہے ۔ این سی پی کے کہنہ مشق قائد نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں کانگریس کو کسی نئے قائد

ممبئی 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )لوک سبھا انتخابات کے بعد یو پی اے کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کا یقین ظاہر کرتے ہوئے این سی پی کے صدر شرد پوار نے کہا کہ شکست کی صورت میں بھی یو پی اے متحد رہے گا اور کانگریس اپنی ناکامیوں کے بعد دوبارہ احیاء کی تاریخ رکھتی ہے ۔ این سی پی کے کہنہ مشق قائد نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں کانگریس کو کسی نئے قائد کی جیسے پرینکا وڈرا ہیں تلاش ہوگی ۔ اگر نائب صدر راہول گاندھی جو انتخابی مہم کی قیادت بھی کررہے ہیں لوک سبھا انتخابات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پر کسی بھی جارحیت نے اس کے تیز رفتار احیاء میں مدد کی ہے ۔ شرد پوار نے کہا کہ سب سے پہلے تو انہیں یقین نہیں ہے کہ مودی وزیر اعظم بن جائیں گے۔ بفرض محال اگر ایسا ہو بھی جائے اور کانگریس کے خلاف جارحانہ حملے شروع کردیئے جائیں تو کانگریس دوبارہ متحد ہوجائے گی۔ کیونکہ کانگریسی اجتماعی طور پر نتائج کی پرواہ کئے بغیر جدوجہد کریں گے ۔جہاں تک راہول گاندھی کی ماتحتی میں کام کرنے کا سوال ہے شرد پوار نے کہا کہ فی الحال انہیں حکومت نے دوبارہ شمولیت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن انہوں نے آئندہ کی تمام راہیں کھلی رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ،راہول گاندھی کی زیر قیادت کام کرنے کا اعلان کرچکے ہیں تو ان کے تحت کام کرنے سے انہیں (شرد پوار کو) کیا اعتراض ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی طاقت صدر پارٹی سونیا گاندھی کے ہاتھ میں ہوگی ۔ وہ کانگریس کے بارے میں نہیں جانتے لیکن حکومت کے بارے میں علم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں دو مراکز اقتدار کبھی نہیں تھے ۔ کسی نے بھی بحیثیت مرکزی وزیر زراعت ان کے کاموں میں دخل اندازی نہیں کی ۔ سلسلہ وار اسکینڈلس کے یو پی اے حکومت کی کارکردگی پر اثر انداز ہونے کے بارے میں صدر این سی پی نے کہا کہ اچھے کام کی طرف سے توجہ ہٹا دی گئی ہے ۔ مفادات حاصلہ رکھنے والی سیاسی پارٹیوں نے یو پی اے حکومت کے اچھے کارناموں کو فراموش کردیا ۔ ایسا مسلسل تنقید کر کے کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بعض الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا آغاز ہوچکا ہے اس بات کا لحاظ کئے بغیر کہ خاطی کون ثابت ہوگا بدقسمتی سے بعض لوگوں نے مسلسل تنقید کی اور مفادات حاصل رکھنے والی سیاسی پارٹیوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کی توجہ یو پی اے کے اچھے کاموں کی طرف سے ہٹا دی ۔ اس سوال پر کہ مفادات حاصلہ رکھنے والی پاٹیوں کی نشاندہی کی جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ کیا ان میں سی اے جی بھی شامل ہیں جس نے 2G اسپکٹر اور کامن ویلتھ گیمس اسکامس کو بے نقاب کیا تھا شرد پوار نے کہا کہ اپوزیشن کے بعض گوشوں کی جانب سے مسلسل بیانات جاری کئے گئے اور حکومت کو بدنان کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے ان پارٹیوں کے نام بتانے سے انکار کردیا۔

TOPPOPULARRECENT