Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / شکست کے باوجود یادو خاندان سنبھلنے تیار نہیں ، رسہ کشی جاری

شکست کے باوجود یادو خاندان سنبھلنے تیار نہیں ، رسہ کشی جاری

لکھنؤ، 8مئی (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش اسمبلی الیکشن میں بری طرح شکست کھانے کے باوجودسماج وادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو خاندان میں جاری رسہ کشی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ خاندان کے اراکین ایک دوسرے کے خلاف بیان باز ی سے باز نہیں آرہے ہیں۔ اس رسہ کشی کی وجہ سے ملائم سنگھ یادو کے رول کے بارے میں طر ح طرح کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ یادو نے گذشتہ اتوار کو ایک انگلش اخبار سے کہہ دیا کہ سیکولر محاذ بنانے کے بارے میں ان کی شیو پال سے کوئی بات ہی نہیں ہوئی ہے لیکن دوسرے دن ہی کل انہوں نے مین پوری میں اپنے بیٹے اور پارٹی صدر اکھلیش یادو کے خلاف خوب زہر اگلا۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اکھلیش کو وزیر اعلی بنانا ان کی بہت بڑی بھول تھی۔ ملائم سنگھ یادو کی چھوٹی بہو اپرنا یادو نے چچا شیو پال یادوکی طرح اکھلیش یادو سے پارٹی صدر کاچھوڑ نے کا مطالبہ کردیا۔ اپرنا نے ایک پروگرام میں آج کہا کہ اکھلیش بھیا کو اپنے وعدے کے مطابق نیتاجی (ملائم سنگھ یادو) کو صدر کا عہدہ سونپ دینا چاہئے ۔ انہوں نے الیکشن سے پہلے تین ماہ میں صدر کا عہدہ نیتا جی کو واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ خاندان کی لڑائی کے ایک اور کردار پروفیسر رام گوپال یادو نے تو شیو پال یادو پر حملہ کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ان کی تو ابھی رکنیت کی تجدید بھی نہیں ہوئی ہے ۔ دوسری طرف شیو پال یادو اور ملائم سنگھ یادو نے اشاروں اشاروں میں پروفیسر رام گوپال یاد و کو سکنی تک کہہ دیا۔ سیاسی مبصر اور صحافی وحید احمد کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان شیو پال سنگھ یادو کا ہورہا ہے حالانکہ ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
ان کا دعوی ہے کہ خاندان کی لڑائی میں کارکنان گومگو کی کیفیت میں ہیں۔ملائم سنگھ یادو کی قیادت میں اگر سیکولر مورچہ کا قیام ہوتا تو پارٹی کا صدر رہنے کے باوجود اکھلیش کے لئے بھی یہ گھاٹے کا سودا ہوسکتا تھا۔

TOPPOPULARRECENT