Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / شکیل بن حنیف نامی فتنہ سے عوام کو چوکس رہنے کا مشورہ

شکیل بن حنیف نامی فتنہ سے عوام کو چوکس رہنے کا مشورہ

مسجد عزیزیہ ہمایوں نگر میں آج ردفتنہ پر جلسہ عام ، مولانا اعجاز احمد وسیم کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ /16 جنوری (سیاست نیوز) شکیل بن حنیف نامی فتنہ سے عوام کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ فتنہ گھروں تک سرائیت کرچکا ہے اور اس فتنہ کا نشانہ جہلا نہیں بلکہ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں اور شہر حیدرآباد کے بیشتر انجنیئرنگ کالجس میں تعلیم حاصل کررہے نوجوان اس فتنہ کا شکار بنتے جارہے ہیں ۔ رد فتنہ شکیل بن حنیف کے عنوان سے جامع مسجد عزیزیہ ہمایوں نگر میں /17 جنوری بروز اتوار بعد نماز عشاء جلسہ عام کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے جس میں اس فتنہ کے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے عوام میں شعور اجاگر کیا جائے گا ۔ مولانا اعجاز احمد وسیم نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس جلسہ عام میں معتمد مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد ارشد علی قاسمی ، مولانا تنظیم عالم قاسمی کے علاوہ حافظ محمد رشادالدین کے خطابات ہوں گے ۔ مولانا اعجاز احمد وسیم نے بتایا کہ شہر میں یہ فتنہ تیزی سے پھیلتا جارہا ہے اور انتہائی خطرناک رخ اختیار کرچکا ہے ۔ اس فتنہ کو روکنے کیلئے فوری طور پر امت مسلمہ کے نوجوانوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ساتھ ہی والدین کو چوکنا کیا جانا ناگزیر ہوچکا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس فتنہ کا تعلق سائنس اور ویب سائیٹس سے ہے ۔ جن کے ذریعہ شکیل بن حنیف کے فتنہ کو پروان چڑھایا جارہا ہے ۔ اسی لئے سائنسی علوم اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ بھی اس فتنہ کو رد کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ مولانا اعجاز احمد وسیم نے بتایا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی یہ سازش کا مرکز اورنگ آباد بنا ہوا ہے اور شکیل کا تعلق بہار سے ہے جو اس فتنہ کا بانی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ احادیث کو اپنے مطلب کیلئے استعمال کرتے ہوئے توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے جس سے نوجوان نسل گمراہی کا شکار بن رہی ہے ۔ اس موقع پر مولانا ابرار الحق مجلس تحفظ ختم نبوت نے بتایا کہ شہر میں چند برس قبل اس فتنہ کی اطلاع دفتر تحفظ ختم نبوت کو موصول ہوئی تھی جس پر مولانا ارشد علی قاسمی کی نگرانی میں اس فتنہ کے خلاف موثر مہم چلائی گئی اور اس فتنہ کے فروغ کیلئے سرگرم نوجوانوں کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے مراکز تک پہونچا گیا لیکن اس فتنہ کا شکار افراد علماء سے بات کرنے سے صریح انکار کررہے ہیں جس کی وجہ سے صحیح یا غلط ثابت کرنا دشوار ہورہا ہے ۔ اس فتنہ کے ماننے والوں کو بھی اس بات کا پابند بنایا جاتا ہے کہ وہ علماء سے گفتگو نہ کریں کیونکہ علمائے کرام سے گفتگو کی صورت میں حقائق سامنے آتے ہیں ۔ مولانا ابرار الحق نے بتایا کہ اس فتنہ کے سدباب کے لئے یہ ضروری ہے کہ عوام میں شعور اجاگر کرتے ہوئے نوجوانوں کو اس فتنہ کا شکار ہونے سے بچایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس فتنہ میں مبتلا کرنے والے علماء سے بات کرنے سے انکار کررہے ہیں تو ایسی صورت میں ہمارے پاس صرف ایک راہ بچ جاتی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے ایمان کو مضبوط کرتے ہوئے انہیں گمراہی کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے اس فتنہ کے حقائق سے واقف کروائیں ۔  اس موقع پر برادر محمد اظہر الدین کے علاوہ مولانا عبدالرحیم معتمد جامع مسجد عزیزیہ کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT