Tuesday , December 11 2018

شہادت بابری مسجد کے خلاف آج احتجاجی جلسہ مولانا نصیرالدین کا بیان

حیدرآباد ۔ /5 ڈسمبر (پریس نوٹ) مسلمانوں کیلئے 6 دسمبر ایک یوم سیاہ ہے ، کیوں کہ اسی دن ایک جائز زمین پر 400 سال سے قائم بابری مسجد کو زور و زبردستی سے حکومت کی مشنری کے سامنے علی الاعلان شہید کرکے خوشیاں منائی گئیں ۔ یہ صرف ایک مسجد کی شہادت کا حادثہ نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی دینی شناخت مٹانے اور ملک میں ہندو راج لانے کی ابتداء ہے اور اس جرم میں سنگھ پریوار اور حکومت حتی کہ عدالتیں بھی شریک ہیں ۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سارے ملک میں سڑکوں پر نکل آنے والے 3 ہزار مسلم نوجوانوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس ملک میں اب مسلمانوں کے لئے امن اور انصاف اکثریت کی مرضی پر منحصر ہے ۔ یہ ایک نہایت ہی سنگین معاملہ ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت پر مسلم قیادت کی خاموشی نے سنگھ پریوار کے حوصلے مزید بلند کردیئے ۔ بابری مسجد کی بازیابی ایک دینی فریضہ ہے اور مسجدوں کو غیروں کے قبضے سے آزاد کرانا سنت رسولؐ ہے ۔ صحابہ کا عمل ہے ، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی تاریخ ہے ، سانحہ بابری مسجد کے خلاف ایک احتجاجی جلسہ عام /6 ڈسمبر کو مسجد حضرت اجالے شاہؒ سعیدآباد ، بعد نماز ظہر ( 1.15 بجے) منعقد ہے ۔ اس جلسہ کو ملی قائدین مخاطب کریں گے ۔ ناظم وحدت اسلامی تلنگانہ ، مولانا محمد نصیرالدین نے عوام سے بازیابی بابری مسجد کے عزم کو تازہ رکھنے کے لئے شرکت کی اپیل کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT