Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / شہرمیں سیاحتی مراکز کو فروغ دینے کیلئے موثر اقدامات

شہرمیں سیاحتی مراکز کو فروغ دینے کیلئے موثر اقدامات

مختلف تنظیموں سے تجاویز طلب ، سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی بھی ناگزیر

حیدرآباد۔/25فبروری، ( سیاست نیوز) پرانے شہر کے سیاحتی مراکز کو فروغ دینے کیلئے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں جن میں چارمینار کی کیمیکل کے ذریعہ صفائی کا عمل بھی شامل ہے لیکن چارمینار کے علاوہ دیگر سیاحتی مراکز و تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے سلسلہ میں برتی جانے والی لاپرواہی پر مختلف گوشوں سے تنقید کی جارہی ہے۔ حکومت تلنگانہ کے محکمہ سیاحت کی جانب سے پرانے شہر میں موجود تاریخی عمارتوں کے سیاحتی فروغ کیلئے منصوبہ بندی کا عمل شروع کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں محکمہ سیاحت کے اعلیٰ عہدیداروں نے مختلف تنظیموں اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے سلسلہ میں خدمات انجام دینے والے اداروں سے تجاویز طلب کی ہیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب چارمینار، مکہ مسجد، شفاء خانہ یونانی، چوک گھڑیال، گلزار حوض، چارکمان، پتھر گٹی کے علاوہ اطراف کے علاقوں میں موجود تاریخی عمارتوں کی بہتر نگہداشت اور آہک پاشی کیلئے ایک علحدہ کمیٹی تشکیل دینے کا منصوبہ ہے جو کہ آئندہ ان علاقوں کی ترقیاتی سرگرمیوں کے متعلق فیصلوں کی مجاز ہوگی۔ پرانے شہر میں موجود تاریخی عمارتوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ترقی دیئے جانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ان علاقوں میں سیاحوں کو نہ صرف بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں بلکہ سیاحوں کی دلچسپی کا باعث تاریخی عمارتوں کو رنگ و روغن کے ذریعہ قابل دید بنایا جائے۔ ان تجاویز کے موصول ہونے کے بعد ہی حکومت کی جانب سے شفاء خانہ یونانی اور چارمینار کی آہک پاشی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ چارمینار کی آہک پاشی کے سلسلہ میں فی الحال دو میناروں پر تیزی کے ساتھ کام انجام دیا جارہا ہے جبکہ مستقبل قریب میں تیسرے مینار کی صفائی کا عمل بھی شروع ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح شفاء خانہ یونانی کی آہک پاشی کا عمل قریب الختم ہے لیکن اندرونی حصوں کی جو صورتحال ہے وہ اب بھی انتہائی خراب ہے جسے بہتر بنایا جانا ناگزیر ہے تاکہ شفاء خانہ سے رجوع ہونے والے مریضوں کو بنیادی سہولتیں میسر آسکیں۔ چارکمان، گلزار حوض اور پتھر گٹی کے علاوہ سردار محل کی عمارت کو بھی بہتر بنانے کے سلسلہ میں تجاویز کی طلبی کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ جاریہ سال کے اواخر تک اس سلسلہ میں محکمہ سیاحت کی جانب سے کوئی قطعی فیصلہ کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کردی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT