Monday , May 28 2018
Home / شہر کی خبریں / شہریان حیدرآباد کو دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ

شہریان حیدرآباد کو دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ

گرد و غبار کا انبار، عوام میں الرجی، بلدیہ کو توجہ دینے کی ضرورت

حیدرآباد۔13مئی(سیاست نیوز) شہریان حیدرآباد کو دمہ اور دیگر پھیپڑوں کے امراض لاحق ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوتا جا رہاہے کیونکہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے سڑکوں کی صفائی اور گرد و مٹی کو صاف کرنے میں ہونے والی ناکامی کے ساتھ جا بجا جاری تعمیراتی سرگرمیاں شہریوں کے لئے تکلیف کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ ماہراطباء کے مطابق شہر حیدرآباد میں صفائی پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ساتھ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں مٹی اور دھول کے خاتمہ پر بھی خصوصی توجہ دیا جانا ضروری ہے ایسا نہ کرنے کی صورت میں شہریوں میں سانس اور پھیپڑوں کے امراض لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔ بتایاجاتاہے دھول ‘ مٹی اور گرد کے فضاء میں ہونے کے سبب نہ صرف یہ امراض لاحق ہوں گے بلکہ جن لوگوں کو اس سے الرجی ہے انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسی لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے صفائی عملہ اور نگران عہدیداروں کو چاہئے کہ سڑکوں سے کچہرے کی صفائی کے ساتھ ساتھ سڑکوں سے گرد و غبار کو ہٹانے کیلئے بھی اقدامات کرے۔ جی ایچ ایم سی مئیر مسٹر بی رام موہن کی جانب سے تعمیراتی اشیاء اور ملبہ سڑک پر پھینکنے کے خلاف انتباہ جاری کیا جا رہاہے لیکن اپنے محکمہ کے عہدیداروں اورملازمین کو یہ نہیں کہا جا رہاہے کہ وہ سڑکوں کی بہتر صفائی کو یقینی بنائیں اور سڑکوں پر جمع ہونے والی دھو ل ‘مٹی اور گرد کو صاف کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ شہر میں رات کے اوقات میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے عصری گاڑیوں کے ذریعہ مٹی اور گرد کی صفائی کی کوشش کی جاتی ہیں لیکن اگر رات کے اوقات میں ان گاڑیوں کے انداز صفائی کو دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ گاڑیاں دھول اور مٹی کو صاف کرنے سے زیادہ فضاء میں بکھیرنے کا کام کر رہی ہیں ۔اسی طرح شہریوں کی جانب سے تعمیری ملبہ غلط طریقہ پر پھینکے جانے پر کاروائی کا انتباہ دینے والے مئیر جی ایچ ایم سی مسٹر بی رام موہن کو چاہئے کہ وہ عوام کے ساتھ ساتھ سرکاری محکمہ جات بالخصوص جی ایچ ایم سی کے تحت انجام دیئے جانے والے تعمیری و ترقیاتی کاموں کو انجام دینے والے کنٹراکٹرس کو بھی متنبہ کرتے ہوئے انہیں بھی اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ ملبہ کی بروقت منتقلی اور سڑکوں کی صفائی کو یقینی بنائیں بصورت دیگر ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT