Saturday , June 23 2018
Home / عرب دنیا / شہریوں پر آئی ایس آئی ایل کے حملے جنگی جرائم کے مترادف

شہریوں پر آئی ایس آئی ایل کے حملے جنگی جرائم کے مترادف

اقوام متحدہ 20 جون (سیاست ڈاٹ کام )دہشت گردوں اور مسلح گروپس جیسے آئی ایس آئی ایل کے عراقی شہریوں پر حملے جنگی جرائم کے مترادف ہے اور شہریوں کا تحفظ بحران کی یکسوئی کیلئے طئے کی جانے والی کسی بھی حکمت عملی کا بنیادی مرکز توجہ ہونا چاہئے۔ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون کے خصوصی مشیروں ایڈیما ڈینگ، جنیفر ویلش نے کہا کہ عراق کی صور

اقوام متحدہ 20 جون (سیاست ڈاٹ کام )دہشت گردوں اور مسلح گروپس جیسے آئی ایس آئی ایل کے عراقی شہریوں پر حملے جنگی جرائم کے مترادف ہے اور شہریوں کا تحفظ بحران کی یکسوئی کیلئے طئے کی جانے والی کسی بھی حکمت عملی کا بنیادی مرکز توجہ ہونا چاہئے۔ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون کے خصوصی مشیروں ایڈیما ڈینگ، جنیفر ویلش نے کہا کہ عراق کی صورتحال اور اس کا عوام پر اثر فکر مندی کی وجہ ہے۔ بانکی مون نے انتباہ دیا کہ فرقہ وارانہ تشدد کے بڑے پیمانے پر پھیل جانے کا خطرہ موجود ہے۔عراق کے اندر اور اس کی سرحدوں کے باہر فرقہ وارانہ تشدد کی توثیق ممکن ہے۔ بانکی مون کے خصوصی مشیروں نے شہریوں پر حملوں اور ان کو یرغمال بنا لینے کے واقعات کی سخت ترین الفاظ میںمذمت کی اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے مترادف قرار دیا۔ عراق کے بحران کے تمام فریقوں بشمول سیاسی، فوجی، مذہبی اور فرقہ واری قائدین کو پرتشدد صف آرائی کے طریقہ ترک کردینا چاہئے اور فرقہ وارانہ منافرت کے انسداد کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے ۔

تا کہ تنوع کا احترا م کیا جاسکے ۔ مذہبی اور دیگر اقلیتوں کی صورتحال پر خصوصی فکر مندی ظاہر کی گئی ۔ عیسائی فرقہ کے افراد شمالی شہر موصل سے آئی ایس آئی ایل کے حملے کے بعد فرار ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی۔عالمی غذائی پروگرام نے ہنگامی بنیادوں پر مخدوش اور بے گھر عوام میں 43500 افراد کو غذائی پیاکس سربراہ کئے۔یونیسف اور ڈبلیو ایچ او بھی کرد صحت عامہ کارکنوں کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مختلف شعبہ اور ان کے شراکت دار اربیلل، دوحک اور سلیمانیہ کے نئے علاقوں میں خیمے نصب کررہے ہیں۔ کردستان کے علاقہ میں نقل مقام کرنے والوں اور بے گھر خاندانوں کی کثیر تعداد میں آمد پر اقوام متحدہ کا پناہ گزینوں کا شعبہ ان کیلئے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس شعبہ کے بموجب جنوری سے اب تک پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

بانکی مون نے شام کی سرکاری فوج کی شہری علاقوں پر زبردست شل باری ،بیارل بموں سے بم بمباری اور مسلسل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تنازعہ کے تمام فریقین سے تشدد ختم کردینے اور تنازعہ کا سیاسی حل دریافت کرنے کی ضرور ت پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون نے شہریوں کے خلاف ہتھیاروں کے اندھا دھند استعمال کی سخت مذمت کی اور اسے بین الاقوامی انسانی ہمدردی اور انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حالت میں تمام شہریوں کا تحفظ کرنا چاہئے ۔ شمالی شام میں بے گھر افراد کو آسرا فراہم کرنے کیلئے بہتر کیمپ قائم کئے جارہے ہیں۔ 18 جون کو پچاس سے زیادہ افراد بشمول خواتین اور بچے ہلاک کردیئے گئے تھے۔ شام میں تصادم کا آغاز مارچ 2011 میں ہوا تھا جس میں تاحال دیڑھ لاکھ افراد ہلاک اور لاکھوں دیگر بے گھر ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT