Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / شہری ترقیات کے نام پر تلنگانہ حکومت عوام کو دھوکہ دے رہی ہے

شہری ترقیات کے نام پر تلنگانہ حکومت عوام کو دھوکہ دے رہی ہے

گذشتہ 3 سال کے دوران صرف وعدے کئے گئے کام کچھ نہیں ہوا ۔ سی پی آئی ایم سکریٹری سرینواس کا خطاب
حیدرآباد /14 نومبر ( سیاست نیوز) شہری ترقیات کے نام پر تلنگانہ حکومت عوام کو دھوکہ دے رہی ہے ۔ شہر حیدرآباد کو مثالی اور بین الاقوامی شہر بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے اس کے برخلاف کام کر رہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سی پی آئی ایم سٹی سکریٹری مسٹر ایم سرینواس نے کیا جو یہاں ایک پریس کانفرنس کو مخاطب تھے ۔ انہوں نے شہر حیدرآباد کی ترقی پر گذشتہ تین سال کے اقدامات کا تذکرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری ترقی پر وائیٹ پیپر جاری کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی دیگر ریاستوں سے حیدرآباد کا تقابل کریں تو دیگر ریاستوں کی حکومتوں اور تلنگانہ حکومت میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے اقدامات شہر حیدرآباد کے تعلق سے مجرمانہ غفلت کا سبب بن گئے ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف شہر حیدرآباد کو بین الاقوامی شہر بنانے کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں ۔ سی پی آئی ایم سکریٹری مسٹر ایم سرینواس نے کہا کہ ملک کی دیگر ریاستیں اپنے شہریوں کو ترقی دینے میں کافی دلچسپی کا مظاہرہ اور عملی اقدامات کر رہے ہیں ۔ لیکن تلنگانہ حکومت صرف وعدے کر رہی ہے ۔ انہو ںنے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی ترقی کیلئے فنڈز کو جاری کرنے کے بجائے تلنگانہ حکومت بلدیہ کے فنڈز کو منتقل کردیا ہے اور اس دوران آر ٹی سی کو 344 کروڑ روپئے منتقل کردئے گئے جبکہ شہر میں ڈرینج کے علاوہ دیگر ضروری سہولیات کے ترقیاتی کام نہ ہونے سے بے پناہ مشکلات کے سبب خطرناک حالات پیدا ہو رہے ہیں ۔ سی پی آئی ایم قائد نے کہا کہ شہر میں جو کام جاری ہیں وہ کافی چھوٹے پیمانے پر جاری ہیں ۔ جو خالص بلدیہ کے فنڈز کے سبب عمل میں لائے جارہے ہیں ۔ انہوں نے ریاستی وزیر کے راما راؤ کے بیان پر افسوس ظاہر کیا اور انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی وزیر شہریوں کو ترقی کے وعدے کرتے ہوئے انہیں دھوکہ دے رہے ہیں اور عوام کے جذبات سے کھلواڑ کر رہے ہیں اور بڑی پالیسیاں اور منصوبہ کے نام پر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ چنائی کیلئے ٹامل ناڈو کی ریاستی حکومت نے 1456 کروڑ جاری کئے ۔ بنگلور شہر کیلئے کرناٹک حکومت نے 2377 ، کولکتہ کیلئے بنگال کی حکومت نے 1488 کروڑ جاری کیا جبکہ شہر حیدرآباد کیلئے تلنگانہ حکومت نے صرف 344 کروڑ روپئے جاری کئے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2016-17 میں 54 کروڑ ہی گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو جاری کئے جبکہ اسکائی ویز ، ولائی اوور اور ڈبل بیڈروم اور دیگر اسکیمات اور پروگراموں کیلئے ایک سو کروڑ روپئے بلدی خزانہ سے ہی ادا کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین سالوں میں ریاستی حکومت کی جانب سے بلدیہ کو دئے جانے والے 3000 ہزار کروڑ فنڈز جاری نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے بلدیہ حیدراباد کی ترقی کیلئے فوری فنڈز جاری کرنے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT