Wednesday , August 15 2018
Home / شہر کی خبریں / شہری ترقی کے مسئلہ پر کے ٹی آر اور محمد علی شبیر میں نوک جھونک

شہری ترقی کے مسئلہ پر کے ٹی آر اور محمد علی شبیر میں نوک جھونک

سونیا گاندھی کے سبب تلنگانہ حاصل ہونے کے ادعا پر شوروغل
حیدرآباد ۔14۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں شہر کی ترقی کے مسئلہ پر وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ اور قائد اپوزیشن محمد علی شبیر کے درمیان نوک جھونک ہوئی ۔ کے ٹی آر اور ٹی آر ایس ارکان نے شہر میں پینے کے پانی کی سربراہی کے سلسلہ میں سونیا گاندھی کا نام لینے پر سخت اعتراض کیا۔ وقفہ سوالات کے دوران کے ٹی راما راؤ نے کانگریس دور حکومت میں خالی گھڑوں کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ تشکیل کے بعد حکومت کے اقدامات کے سبب موثر سربراہی عمل میں آرہی ہے اور خالی گھڑوں کا روایتی احتجاج ختم ہوچکا ہے ۔ اس مرحلہ پر محمد علی شبیر نے مداخلت کرتے ہوئے اسے کانگریس کا کارنامہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایوان میں اعتراف کیا تھا کہ سونیا گاندھی کے سبب تلنگانہ حاصل ہوا اور ان کے تعاون کے بغیر تلنگانہ کا تصور ادھورا رہے گا لیکن آج پانی کی سربراہی کے مسئلہ پر کانگریس حکومت کے اقدامات کو نظرانداز کردیا گیا۔ کے ٹی آر اور ٹی آر ایس کے دیگر ارکان نے اعتراض جتایا اور کہا کہ پانی کی مسئلہ سے سونیا گاندھی یا مہاتما گاندھی کے تذکرہ کا کیا تعلق ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وجئے بھاسکر ریڈی ، وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور کرن کمار ریڈی نے ہزاروں کروڑ خرچ کرتے ہوئے کرشنا کے تین مراحل اور گوداوری سے پانی کی سربراہی کو یقینی بنایا تھا۔ کانگریس کے کارناموں کا سہرا ٹی آر ایس حکومت اپنے سر باندھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس نے 50 برسوں میں جو کچھ نہیں کیا ، وہ ترقی تین برسوں میں ٹی آر ایس کر دکھائی ہے۔ ایک اور مرحلہ پر کے ٹی راما راؤ نے کانگریس کو نشانہ بنایا اور کہا کہ قانون ساز کونسل کے وقار کو کانگریس دور حکومت میں مجروح کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں وزراء کونسل کے اجلاس میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ بسااوقات وزراء کی عدم موجودگی کے سبب اجلاس کو ملتوی کرنا پڑتا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد ایوان بالا کے وقار کو بلند کیا گیا ہے۔ حکومت نے دونوں ایوانوں کیلئے وزراء کی جو ٹیم تشکیل دی ہے، وہ اپنے مقررہ دن ایوان میں حاضر رہتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT