Monday , November 20 2017
Home / اداریہ / شہری حقوق پر ضرب …

شہری حقوق پر ضرب …

مرے خلوص کی قامت کو ناپنے والے

ذرا خیال تو کر اپنی تنگدستی کا

شہری حقوق پر ضرب …

وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ شہریوں کی پسند ناپسند پر کوئی پابندیاں نہیں ہیں۔ شہری کیا کھاتے ہیں کیا کھانا چاہئے۔ اس پر حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ مملکتی وزیرداخلہ کرن رجیجو نے بھی کہا کہ عوام کی غذائی پسند پرکوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ حکومت نے مویشیوں کی فروخت پر جو نیا قانون لایا ہے اس کے خلاف احتجاج میں شدت اور کیرالا اسمبلی میں مرکز نے اس 23 مئی والے انسداد مویشی فروخت ذبیحہ قوانین 2017ء کے اعلامیہ کے خلاف تحریک کی منظوری اور مدراس ہائیکورٹ کی جانب سے مرکزی اعلامیہ پر حکم التواء نے ملک میں مویشیوں کی فروخت اور خرید کی مارکٹوں میں اتھل پتھل پیدا کردی ہے۔ حکومت ایک طرف شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف کئی دیگر حقوق کو سلب کرنے والے قوانین لارہی ہے۔ مرکزی حکومت کا ا علامیہ مویشیوں کی ذبیح اور فروخت و خرید پر پابندی عائد کرنا ہے۔ مویشیوں کی صنعت سے وابستہ تمام افراد متاثر ہورہے ہیں۔ ملک میں دیگر حقوق کی طرح عوام کو اپنی پسند کی غذا کھانے کا بھی حق حاصل ہے۔ زندگی گذارنے اور عبادت کرنے کے حقوق ہیں لیکن مویشیوں کے معاملہ میں حکومت نے جو پالیسی اختیار کی ہے وہ صرف مذہبی اقلیتوں پر شدید دباؤ ڈالنے کیلئے بنائی جاتی ہے۔ مرکز نے جب سے مویشیوں کی فروخت پر اعلامیہ جاری کیا ہے، ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ کیرالا بھر میں اس اعلامیہ کے خلاف بیف فیسٹیول منایا گیا جہاں کانگریس کے یوتھ ونگ کے ارکان لب سڑک ہی گائے ذبح کرکے فیسٹیول منایا۔ اس ملک کی بدنیتی یہ ہیکہ یہاں ایسے لوگ مسلط ہوتے جارہے ہیں جو سماج کو مختلف خانوں میں بانٹ کر انتشار کی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مرکز کے اعلامیہ کے مطابق اگر کوئی مویشی مارکٹ میں اپنے مویشی فروخت کررہا ہے تو اسے مالک سے خط حاصل کرنا پڑے گا کہ یہ جانور ذبیحہ کیلئے خریدا نہیں جارہا ہے۔ اس طرح کے قوانین نے سماج میں انتشار پیدا کردیا ہے۔ کئی ریاستوں سے بڑے پیمانہ پر تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ ان ریاستوں سے تعلق رکھنے والے قائدین کی تنقیدوں میں سب سے اہم پہلو یہ ہیکہ حکومت غذا کیلئے عوام کی پسند کے معاملہ میں مداخلت کررہی ہے جو یہ عوام کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی پسند کی زندگی گذاریں۔ یہ سیاسی مفادات کی پالیسی ہے جس کے ذریعہ موجودہ حکومت ملک کے عوام پر اپنی پسند نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ملک بھر میں بیف کھانے کا عمل سب سے زیادہ ہے۔ خاص  کر شمال مشرقی اور جنوبی ہند کی ر یاستوں میں اس قانون کو چیلنج کیا گیا۔ گاؤ دہشت گردوں نے مرکز کی پالیسی کا بیجا استعمال کرتے ہوئے مویشیوں کے بیوپاریوں اور بیف کھانے والوں کی کھال اتارنے کی دہشت گردی میں خود کو مصروف رکھا ہے۔ یہ لوگ حکومت کی پالیسی کو ایک مضبوط سہارا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انسانوں کی جان لے کر جانوروں کے تحفظ پر آمادہ ایسے حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ 2014ء کے عام انتخابات کی مہم کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کی 5 بلین ڈالر کی بیف برآمدات صنعت کو نشانہ بنایا تھا اور انہوں نے ایک گلابی انقلاب لانے کی بات کہی تھی۔ اس کا تسلسل ہیکہ آج مودی حکومت اپنی دوسری میعاد کے حصول کیلئے ایک مخصوص نظریہ کو بڑھا دے رہی ہے۔ دستوری طور پر ایک سیکولر ملک میں ناحق مذہب کی حمایت والی پالیسیاں بنانے کی مخالفت کرنا بھی شہریوں کا  حق ہے۔ شہری حقوق کو اس طرح سلب کرکے کوئی بھی حکومت اپنی بقاء کی امید نہیں رکھ سکتی۔ اس کی مخالف عوام پالیسیوں کے نتائج دیر سے ہی سہی خراب نکلتے ہیں۔ گوشت کھانے اور نہ کھانے کی اس بحث میں مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر وینکیا نائیڈو نے یہ وضاحت کی کہ وہ خود تو نان ویجیٹیرین ہیں اور یہ عوام کی مرضی ہے کہ وہ اپنی پسند کی غذا کھائیں۔ بی جے پی حکومت کے یہ قائدین بظاہر اپنی رائے دے رہے ہیں مگر حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ پر ان کا ردعمل کچھ  نہیں ہے جبکہ بی جے پی حکومت ملک کے تمام شہریوں کو ترکاری خور بنانا چاہتی ہے اس لئے آج سارے ملک میں یہ بحث چھڑ چکی ہے کہ آیا ملک کے شہریوں کے حقوق کو سلب کرلیا جارہا ہے؟۔

TOPPOPULARRECENT