Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / شہری علاقوں کو تیزی سے فروغ دینے حکومت تلنگانہ کا منصوبہ

شہری علاقوں کو تیزی سے فروغ دینے حکومت تلنگانہ کا منصوبہ

بلدیات کی تعداد کو دوگنا کرنے کی تجویز، مہاراشٹرا کے خطوط پر پلانس کی تیاری
حیدرآباد ۔ 4  اگست (ایجنسیز) ملک میں سب سے زیادہ شہری علاقوں والی ریاست مہاراشٹرا کو تیزی کے ساتھ شہری علاقوں کو فروغ دینے کے سلسلہ میں جلد ہی ریاست تلنگانہ کے ساتھ سخت مسابقت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے شہری علاقوں کو بڑے پیمانہ پر فروغ دینے کے مقصد، بلدیات  (شہری مجالس مقامی) کی تعداد کو دوگنا کرتے ہوئے اسے آئندہ تین سال میں موجودہ 67 بلدیات (جی ایچ ایم سی شامل نہیں) میں اضافہ کرتے ہوئے تقریباً120  کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فی الوقت مہاراشٹرا میں 26 میونسپل کارپوریشنس اور 226 میونسپلٹیز ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں میونسپل کارپوریشنس کی جملہ تعداد چھ ہے اور میونسپلٹیز کی تعداد 62 ہے۔ ریاست کے محکمہ بلدی نظم و نسق اور شہری ترقی کی جانب سے کئی بڑی پنچایتوں کی نشاندہی کی جاچکی ہے جنہیں مستقبل میں ترقی دے کر میونسپلٹیز بنایا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر مجوزہ یو ایل بیز کی نشاندہی دیہی (کم شہری علاقوں والے) اضلاع جیسے نظام آباد (جہاں صرف 4 یو ایل بیز ایس)، ورنگل (صرف 6 یو ایل بیز)، نلگنڈہ (7 یو ایل بیز) اور عادل آباد، رنگاریڈی اور کھمم ڈسٹرکٹس میں ہر ضلع میں سات بلدیات ہیں جبکہ ضلع کریم نگر میں سب سے زیادہ 11 بلدیات ہیں۔ اس کے بعد ضلع محبوب نگر میں 10 بلدیات اور ضلع میدک میں بلدیات کی جملہ تعداد 9 ہے۔ جی ایچ ایم سی حدود سے متصل یہ تین اضلاع زیادہ اربنائزڈ ڈسٹرکٹس کے زمرہ میں ہیں۔ محکمہ بلدی نظم و نسق اور شہری ترقی کے عہدیداروں کے مطابق زیادہ تعداد میں ULBS کو وجود میں لانے کا مقصد انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا اور مجالس مقامی کو خودمکتفی بنانا ہے۔ محکمہ کی جانب سے میونسپلٹیز اور پنچایتوں کی کارکردگی پر کی گئی ایک تقابلی اسٹڈی میں معلوم ہوا کہ یو ایل بیز ہر سال مالیاتی نشانوں کے حصول میں کامیاب ہے۔ میونسپلٹیز نے دیہی اداروں کے مقابل معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ شہری علاقوں میں مقامی نظم و نسق کو اپنے طور پر وسائل حاصل کرنا ہوتا ہے جبکہ پنچایتوں کیلئے حکومت کو ہر ترقیاتی کام کیلئے 100 فیصد فنڈ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ پنچایتوں کو یو ایل بیز کے طور پر ترقی دینے سے مرکز اور بین الاقوامی ایجنسیوں سے بنیادی انفراسٹرکچر جیسے سڑکوں، پینے کے پانی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کیلئے بھاری فنڈس حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ عہدیداروں نے کہا کہ نئے اضلاع قائم ہوجانے پر، بڑی پنچایتوں کو نگر پنچایتیں اور میونسپلٹیز کے طور پر اپ گریڈ کرنے کیلئے تجویز کا اعلان کیا جائے گا۔ اس تجویز پر چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے ساتھ نئے اضلاع کی تشکیل پر حال میں متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT