Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / شہری ہلاکتوں کیخلاف کشمیر اسمبلی میں شدید ہنگامہ، اپوزیشن کا واک آئوٹ

شہری ہلاکتوں کیخلاف کشمیر اسمبلی میں شدید ہنگامہ، اپوزیشن کا واک آئوٹ

کشمیر میں آئے دن شہری ہلاکتیں : نیشنل کانگریس، چیف منسٹر محبوبہ مفتی کی تقریر کا بائیکاٹ، ایوان میں شیم شیم کے نعرے بلند
جموں، 10جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں ہورہی شہری ہلاکتوں اور جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 22 سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بدھ کے روز شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جس کے دورن اپوزیشن نے حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔ اپوزیشن نے احتجاج کے طور پرریاستی گورنر این این ووہرا کے خطبہ پر ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔ چہارشنبہ کی صبح جوں ہی ایوان کی کاروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن کے سبھی ممبران بشمول نیشنل کانفرنس، کانگریس، سی پی آئی ایم اور اے آئی پی اپنی سیٹوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور وادی کشمیر میں جاری شہری ہلاکتوں کے مبینہ سلسلے کے خلاف احتجاج کرنے لگے ۔ واضح رہے کہ سیکورٹی فورسز نے منگل کے روز ضلع کولگام کے کھڈونی میں احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کرکے 22 سالہ نوجوان خالد احمد ڈار کو ہلاک کیا۔ اپوزیشن اراکین کا مطالبہ تھا کہ حکومت وادی کشمیر میں جاری شہری ہلاکتوں کے سلسلہ کو جلد از جلد روکے ۔ این سی کے سینئر لیڈر و جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے حکومت سے مخاطب ہوکر کہا ‘کشمیر میں آئے روز شہری ہلاکتیں ہورہی ہیں۔ آپ کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے ‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کشمیر میں امن کے قیام کا دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے ۔ اپوزیشن اراکین نے اپنے احتجاج کے دوران ‘شہری ہلاکتیں بند کرو، قاتل سرکار ہائے ہائے ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرو’ کے نعرے بلند کئے۔ این سی رکن و ممبر اسمبلی ہوم شالی بگ (جنوبی کشمیر) عبدالمجید لارمی اپنے ساتھ ایک بینر لیکر آئے تھے جس پر یہ تحریر درج تھی ‘شہری ہلاکتیں بند کرو’۔ احتجاجی اراکین نے کچھ دیر تک اپنی سیٹوں کے نذدیک احتجاج کرنے کے بعد ایوان کے وسط میں آکر شدید نعرے بازی کی۔ وہ ‘شیم شیم’ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے حکومت سے شہری ہلاکتوں کے سلسلے پر جواب مانگ رہے تھے ۔ اسپیکر کویندر گپتا کی یقین دہائی کہ حکومت وقفہ سوالات کے دوران اپنا جواب پیش کرے گی کے باوجود اپوزیشن کے سبھی اراکین نے ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔ اس سے قبل ممبر اسمبلی لنگیٹ (شمالی کشمیر) انجینئر شیخ عبدالرشید کو کاروائی میں رخنہ ڈالنے کے بعد مارشل کے ذریعے ایوان سے نکال باہر کردیا گیا۔ اپوزیشن کے اراکین قریب 30 منٹ بعد دوبارہ ایوان میں واپس آئے اور حکومت سے جواب طلب کرنے لگے ۔ اس دوران متعدد اراکین نے ایک بار پھر ایوان کے وسط میں داخل ہوکر شدید احتجاج کیا۔ قانون اور پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے کہا کہ ضلع کولگام میں ہلاک ہونے والا نوجوان ایک معصوم شہری تھا اور معاملے کی تحقیقات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا ‘حکومت نے ہلاکت کے اس واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کردیے ہیں۔ ہلاکت کے اس واقعہ پر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی تشویش ہے۔ تاہم وزیر موصوف کے جواب سے اپوزیشن لیڈر عمر عبداللہ مطمئن نہیں ہوئے اور کہنے لگے ہم جواب سے مطمئن نہیں ہیں۔ ہمیں اخبارات میں پڑھنے کو ملا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شہری ہلاکت پر دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انہیں ہم سے یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ جب وہ (محبوبہ مفتی) یہاں آکر اپنا بھاشن دے گی تو ہم انہیں سنیں گے ۔ ہم ان کا بیان آج سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ میں خود یہاں نہیں رہوں گا ۔ اگر وہ یہاں ہوتیں اور معاملہ پر دو الفاظ کہہ کر چلی جاتی تو میں ان کی تقریر ضرور سنتا۔

TOPPOPULARRECENT