Friday , April 20 2018
Home / Top Stories / شہر حیدرآباد میں ترقیاتی کام ٹھپ ، کئی پراجکٹس زیر التواء

شہر حیدرآباد میں ترقیاتی کام ٹھپ ، کئی پراجکٹس زیر التواء

چیف منسٹر کے وعدوں پر عدم عمل آوری سے صورتحال تشویشناک ، شہریوں میں برہمی
حسین ساگر کو تفریحی مرکز بنانے کا منصوبہ بھی برفدان کی نذر
نئے بریجس اور سڑکوں کی توسیع کے لیے صرف اعلانات
حیدرآباد۔6فروری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں جاری ترقیاتی کاموں کے متعلق کئے جانے والے دعوؤں کا جائزہ لیا جائے تو شہر حیدرآباد میں حکومت کی جانب سے معلنہ کئی پراجکٹس جوں کے توں زیر التواء ہیں اور ان پراجکٹس کی تکمیل کے متعلق خود محکمہ کے عہدیداروں کو بھی علم نہیں ہے کہ آیا یہ پراجکٹس کبھی مکمل کئے بھی جائیں گے یا صرف ان کے متعلق اعلانات ہی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں اقتدار سنبھالنے سے قبل اور اقتدار سنبھالنے کے بعد کئے گئے وعدوں پر عمل آوری نہ کئے جانے کے سبب صورتحال انتہائی افسوسناک ہوتی جا رہی ہے اور شہر میں اعلان کردہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی ایک منصوبہ پر بھی عمل آوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے حسین ساگر کو تفریحی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لئے عظیم منصوبہ کا اعلان کیا تھا لیکن اس منصوبہ پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ۔ اسی طرح موسی ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کو شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس پراجکٹ کے سلسلہ میں بھی صرف اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن عملی اقدامات ندارد ہیں۔ حسین ساگر سے متصل حکومت نے اسکائی اسکراپرس کی تعمیر کے منصوبہ اعلان کیا تھا لیکن اس منصوبہ کے متعلق بھی کوئی بات چیت نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی عمل آوری کے سلسلہ میں کوئی محکمہ میں اقدامات جاری ہیں۔ شہر حیدرآباد میں سڑکوں اور ٹریفک کو بہتر بنانے کے لئے ایس آر ڈی پی کے منصوبہ کا اعلان کیا گیا تھا اور ایس آر ڈی پی کے تحت نئے برجس کی تعمیر اور سڑکوں کی توسیع کے منصوبوں کا اعلان کیا جا رہا ہے لیکن عملی طور پر شہر کی سڑکوں کی حالت اور ٹریفک کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔حکومت نے تلنگانہ کی تشکیل سے قبل شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کے علاوہ شہر کی تاریخی عمارتوں کی آہک پاشی و تزئین نو کے اعلانات بھی کئے تھے لیکن ان اعلانات پر بھی حکومت برقرار نہیں رہ سکی۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے سلطان بازار اور معظم جاہی مارکٹ سے میٹرو ریل کی مخالفت کرتے ہوئے یہمطالبہ کیا جا رہا تھا کہ میٹرو ریل کی راہداری میں تبدیلی لائی جائے کیونکہ اس راہداری سے شہر کی خوبصورتی متاثر ہوگی اور شہر میں موجود تاریخی عمارتوں کو میٹرو کے سبب نقصان ہوگا لیکن تلنگانہ راشٹر سمیتی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد راہداری میں کوئی تبدیلی نہیں کی بلکہ جس راہداری کی مخالفت کی جا رہی تھی اسی راہداری پر میٹرو کے تعمیری و ترقیاتی کاموں کے سلسلہ کو جاری رکھا ۔ اسی لئے عوام میں یہ احساس شدت سے پیدا ہونے لگا ہے کہ ریاستی حکومت صرف اعلانات تک محدود ہے اور عملی اقدامات میں ریاستی حکومت کی ناکامیوں کی طویل فہرست تیار ہونے لگی ہے۔

TOPPOPULARRECENT