Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر حیدرآباد کے اے ٹی ایم سنٹرس خالی، حصول رقم میں مشکلات

شہر حیدرآباد کے اے ٹی ایم سنٹرس خالی، حصول رقم میں مشکلات

عوام کو مایوسی ، ایف آر ڈی آئی کا خوف ، بینکوں سے محدود رقم کی اجرائی

حیدرآباد۔10جنوری(سیاست نیوز) شہر کے اے ٹی ایم ایک مرتبہ پھر سے خالی ہو چکے ہیں اور اے ٹی ایم سے نقد رقومات نکالنے والوں کو دوبارہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ملک میں بل کے متعلق اطلاعات کے بعد عوام کی جانب سے بینکوں سے رقومات منہاء کرلئے جانے کے سبب بینکوں میں رہنے والے نقد کی مقدار میں کمی کے سبب شہر اور اطراف کے علاقو ںمیں موجود اے ٹی ایم مراکز میں کوئی نقد رقومات نہیں ہیں جس کے سبب عوام کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ۔ بتایاجاتاہے کہ بینکوں میں موجود نقد رقومات میں آنے والی کمی اور کھاتہ داروں کی جانب سے بینک میں پیسے جمع کروائے جانے سے اجتناب کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور بینک عہدیدار اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے اعلی حکام سے مشاورت میں مصروف ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے ذرائع کے مطابق ہندستان بھر میں فی الحال 16لاکھ کروڑ کی کرنسی بازار میں موجود ہے جس میں 5لاکھ کروڑ مالیت کے 2000 کے کرنسی نوٹ ہیں اور 3لاکھ کروڑ مالیت کے چھوٹے کرنسی نوٹ ہیں جن میں 200‘100‘50‘20 اور 10روپئے کے کرنسی نوٹ ہیں جبکہ مابقی 8لاکھ کروڑ مالیت کے 500 کے کرنسی نوٹ بازار میں ہیں۔ ملک کے مختلف بینکوں کے ریکارڈس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2000 کے کرنسی نوٹ جو بینک سے منہاء کئے گئے ہیں ان میں اکثریت بینکوں کو واپس نہیں پہنچ پائے ہیں جس کے سبب بینکوں کے ذریعہ 2000 کے کرنسی نوٹوں کی اجرائی محدود ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ بینکرس کا کہناہے کہ FDRI کے متعلق اطلاعات نے شہریوں میں جو خوف پیدا کیا ہے اس کے سبب لوگوں نے جو رقومات منہاء کئے ہیں وہ گھروں میں محفوظ کئے ہوئے ہیں اور انہیں بینک میں جمع کروانے سے گریز کیا جانے لگا ہے جس کی وجہ سے بینکو ںمیں نقد رقومات محدود ہوچکی ہیں۔ بینک صارفین کا کہنا ہے کہ ملک میں بینکوں کی جانب سے 50ہزار روپئے سے زیادہ رقومات جمع کروانے کی صورت میں 10 فیصد اضافی چارج وصول کئے جا رہے ہیں جس کے سبب رقومات کھاتہ میں جمع کروانے والوں کو از سر نو غور کرنا پڑ رہا ہے ۔ تجارتی برادری کا کہناہے کہ اگر بینک کاری نظام ایسے ہی چلتا رہا تو ہندستانی معیشت تباہ ہوجائے گی۔ تجارتی برادری کی تنظیموں کی جانب سے نقد لین دین سے اجتناب کرتے ہوئے کارڈ اور ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی تھی لیکن اب جبکہ بینک میں جمع رقومات اے ٹی ایم سے منہاء نہیں ہو پا رہی ہیں توانہیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جو معمولی اخراجات کیلئے نقد رقومات اے ٹی ایم کے ذریعہ حاصل کرلیا کرتے تھے۔ریاست تلنگانہ کے بیشتر اضلاع سے اس بات کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں کہ سال 2018کے آغاز کے اندرون 10یوم اے ٹی ایم خالی ہوچکے ہیں اور لوگ تیزی سے اپنے کھاتوں سے رقومات منہاء کرنے لگے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ بعض بینکوں کی جانب سے محدود رقومات کی اجرائی اور 3لاکھ روپئے سے زائد منہاء کئے جانے کی صورت میں محکمہ انکم ٹیکس کی تحقیقات اور اخراجات کے حساب دینے جیسے مسائل سے بچنے کیلئے بھاری مقدار میں کھاتوں میں موجود رقومات لوگ اے ٹی ایم کے ذریعہ منہاء کرنے لگے ہیں۔ بینک عہدیداروں کا کہناہے کہ اے ٹی ایم سے بھاری مقدار میں رقومات کی منہائی کے سبب اے ٹی ایم خالی ہو چکے ہیں اور بینکو ںمیں نقد نہ ہونے کے سبب بینکوں کی جانب سے اے ٹی ایم میں رقومات نہیں ڈالے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ ہر بینک کے اے ٹی ایم کی یہی حالت ہو چکی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کو نقد کے حصول کیلئے مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT