Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / شہر میں بارش کی تباہ کاریاں مسئلہ وہی بہانے تبدیل ہوگئے

شہر میں بارش کی تباہ کاریاں مسئلہ وہی بہانے تبدیل ہوگئے

 

محمد نعیم وجاہت
اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ 10 تا 15 سال کے دوران حیدرآباد میں بے شمار بلند و بالا آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیاں، کارپوریٹ ادارے اور ان کے دفاتر قائم ہوئے ہیں اور کروڑہا روپئے کی سرمایہ کاری بھی ہوئی ہے۔ حکومتیں شہر حیدرآباد کو فرخندہ بنیاد پر ترقی دینے کے لئے کئی منصوبے بھی تیار کئے ہیں۔ حیدرآباد میگا سٹی، سائنس سٹی، گرین سٹی، فیاب سٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ہب کی حیثیت سے ترقی کررہا ہے۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس حکومت گلوبل سٹی کے طرز پر گریٹر حیدرآباد کو ترقی دینے کے اقدامات کررہی ہے۔ کئی عالمی کانفرنس کا بھی حیدرآباد مرکز بن رہا ہے۔ حکومت نئے شہر کو ’’ڈلاس‘‘ اور پرانے شہر کو ’’استنبول‘‘ کے طرز پر ترقی دینے کا اعلان کیا لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہمارا شہر ایسا ہے جیسا کہ حکومت دعویٰ کررہی ہے۔ سکندرآباد ہوکہ پرانا شہر یا گریٹر حیدرآباد کے حدود میں واقع سائبرآباد اور دوسرے مضافاتی علاقوں میں تیزی سے پھیلاؤ ہورہا ہے۔ حالیہ بارش میں ہمارا شہر جھیل کے ساتھ گندے پانی کے نالے میں تبدیل ہوچکا تھا۔ کیا نیا شہر کیا پرانا شہر ہر طرف عوام پانی میں گھرے ہوئے تھے۔ ایک دن میں صرف 3 گھنٹوں کے دوران 13.5 سنٹی میٹر بارش سے سارا شہر جھیل میں تبدیل ہوگیا۔ اب کی بارش میں دیوار منہدم سے دو افراد، برقی شاک سے ایک فرد اور دو افراد بشمول (بچہ) پانی میں بہہ گئے۔ جملہ 5 افراد ہلاک ہوگئے۔ پانی مکانات میں داخل ہوگیا۔ سینکڑوں ایسے مکانات دیکھے گئے جہاں کے عوام رات بھر اپنے گھروں سے پانی کی نکاسی میں مصروف رہے۔ کئی مکانات میں چولھے نہیں جلے۔ سینکڑوں عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ رامنتاپور کے عوام کو کشتیوں کے ذریعہ محفوظ مقامات کو منتقل کیا گیا۔ کئی ایسے بھی کالونیاں ہیں جہاں پر آج بھی پانی جمع ہوا ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ بارش کے دوران گھروں میں پانی داخل نہیں ہوا بلکہ مصیبت داخل ہوگئی تھی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ شہر پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ حکومت صرف دعوے کررہی تھی۔ ظالمانہ مذاق تو پرانے شہر کے عوام سے ہوا ہے۔ کوئی ایسی سڑک نہیں تھی جہاں پانی جمع نہ ہوا ہو۔ گرج چمک کے ساتھ ہوئی طوفانی بارش نے جہاں سڑکوں اور گلیوں کو نالوں میں تبدیل کردیا تھا جس سے غریب عوام اپنی جمع پونجی اور اولاد کو بچانے جدوجہد کررہے تھے۔
بارش کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ 10 سال میں شہر حیدرآباد میں اتنی زیادہ بارش ہوئی ہے۔ یہ کہنا کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ شہر بے بسی کا مظاہرہ کررہا تھا۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے ساتھ مضافاتی علاقے بھی پانی پانی ہوگئے تھے۔ بارش سے سڑکوں پر پانی جمع ہوجانا عام بات ہے مگر فلائی اوورس پر بھی پہلی مرتبہ گھٹنوں برابر پانی جمع ہوگیا۔ کئی بسیں، کاریں، ٹو وہیلر گاڑیاں سڑکوں پر ناکارہ ہوگئیں۔ انھیں چلانے والے انھیں بیچ راستے پر چھوڑ کر اپنی جان بچانے کی فکر میں دیکھے گئے۔ تھوڑی سی بارش سے ٹریفک گھنٹوں جام ہورہی ہے۔ لیکن حیدرآبادیوں میں یہ اچھی بات دیکھنے کو ملتی ہے جب بھی کوئی بُرا وقت آتا ہے ہر کوئی ذات پات، مذہب و ملت اور سیاست سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کی مدد کو آگے آتے ہیں۔ اس بارش میں بھی گنگا جمنی تہذیب دیکھنے کو ملی۔

گزشتہ سال 2016 ء میں بھی شہر حیدرآباد میں طوفانی بارش ہوئی تھی۔ دہلی میں مصروف رہنے والے چیف منسٹر کے سی آر نے کوسوں دور ہونے کے باوجود پل پل کی خبر لی تھی۔ وزراء اور عہدیداروں کو خصوصی ہدایتیں دیتے رہے۔ کئی وزراء نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کنٹرول روم اور سڑکوں پر گزارا تھا۔ دہلی سے حیدرآباد پہونچنے کے بعد چیف منسٹر نے اعلیٰ عہدیداروں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ بعدازاں نالوں پر ناجائز قبضوں کو فوی برخاست کرنے کا اعلان کیا۔ چند قبضوں کو منہدم بھی کیا گیا پھر یہ مہم اس طرح ختم ہوگئی جیسے بھینس کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔ جاریہ سال جب پھر طوفانی بارش ہوئی تو سرکاری مشنری دوبارہ نیند سے بیدار ہوئی۔ گزشتہ سال کے تلخ تجربات سے سبق حاصل کرنے کے بجائے دوبارہ یہ دعویٰ کررہی ہے کہ تالابوں پر قبضہ کرتے ہوئے ہمہ منزلہ عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جس کی وجہ سے کئی کالونیاں پانی میں محصور ہورہی ہیں۔ مسئلہ وہی ہے، بہانے تبدیل ہوگئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تالابوں میں غیر مجاز عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت کس نے دی ہے۔ اجازت دیتے وقت انھیں تالاب کی اراضی ہونے کا احساس کیوں نہیں ہوا۔ غیر مجاز تعمیرات کی حوصلہ افزائی کرنے والے کون ہیں اور کون واویلا مچارہے ہیں۔ حالیہ بارش سے انسان کے ساتھ نہرو زوالوجیکل پارک کے جانور بھی محفوظ نہیں رہے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ نظام کے دور میں قائم کردہ ڈرینج نظام پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ مگر بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے حکومت اور جی ایچ ایم سی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی جس کے نتیجے میں عام دنوں میں خوبصورت نظر آنے والا شہر حیدرآباد آسمان کو چھوتی عمارتیں تھوڑی سی بارش سے اپنی اصلی داستان بیان کررہی ہیں۔ حکومت اور سرکاری مشنری بارش کے بعد عارضی کارروائی کررہی ہیں مگر مستقل حل تلاش کرنے میں آج بھی ناکام ہے۔ ’’ریزن کچھ بھی ہو مگر سیزن‘‘ عوام کی مشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔ 3 تا 13 سنٹی میٹر کی بارش سے سڑکیں پوری طرح ناکارہ ہورہی ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے جتنے آسمان میں تارے ہیں اُس سے کچھ کم سڑکوں پر گڑھے ہیں۔ بارش کے بعد سڑکوں پر پانی اس طرح جمع ہورہا ہے یہ سمجھنے میں کافی دشواریاں ہورہی ہیں کہ کونسی سڑک ہے یا کونسا مین ہول ہے۔ سڑکوں کی خستہ حالت سے گھنٹوں ٹریفک جام ہورہی ہے۔ تین تا پانچ گھنٹوں تک عوام کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہونچنے میں ضائع ہوگئے۔ ساتھ ہی میٹرو ٹرین کی تعمیرات کے لئے بھی سڑکوں کو جگہ جگہ کھود دیا گیا ہے۔ سڑکوں کے درمیان تعمیری رکاوٹیں پیدا کردی گئیں۔ عام طور پر موسم گرما کے دوران شہر کے ایسے کئی علاقے ہیں جہاں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوجاتی ہے۔ مگر تھوڑی سی بارش سے شہر جھیل میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق 1970 ء تک شہر حیدرآباد میں چھوٹے بڑے جملہ 3000 تالاب تھے۔ جو ناجائز قبضوں کے بعد 400 تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان میں 119 تالاب لبریز ہوکر بہہ رہے ہیں۔ 23 تالاب ایسے ہیں جس میں 75 فیصد 17 تالابوں میں 50 فیصد سے زیادہ پانی جمع ہوگیا ہے۔

جن تالابوں میں مکانات تعمیر ہوگئے ہیں وہاں پانی داخل ہوجانا عام بات ہے۔ اگر ان تالابوں پر قبضے نہیں ہوتے تو بارش کے پانی کو وہ تالاب اپنی گود میں سما لیتے اور پانی کو اِدھر اُدھر بھٹکنے سے روک لیا کرتے تھے۔
حال ہی میں ملک کے تمام میٹرو شہروں کے سروے میں حیدرآباد کو سکونت کیلئے سستا اور بزنس کے لئے سازگار شہر کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے معاملے میں شہر حیدرآباد جنوبی ہند کے مرکز میں تبدیل ہورہا ہے لیکن حکمرانوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے وہ سہولتیں فراہم نہیں کی جارہی ہیں جو کی جانی چاہئے۔ شہر کی ترقی کے ساتھ انفراسٹرکچر بھی فروغ نہیں پارہا ہے۔ مثال کے طور پر ملک پیٹ سے بی ایچ ای ایل تک ممبئی ہائی وے 50 سال قبل جو تعمیر کیا گیا تھا۔

وہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ اس سڑک کی کوئی توسیع نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی نئی سڑکیں تعمیر ہوئی ہیں۔ شہر حیدرآباد میں فٹ پاتھ کا چلن ہی ختم ہوچکا ہے جو بھی فٹ پاتھس تھے وہ تقریباً قبضہ ہوگئے ہیں۔ یا ان پر ٹھیلہ بنڈی کے چلر کاروبار کئے جارہے ہیں۔ شہر میں آبادی کے ساتھ ہر سال گاڑیوں کی تعداد میں بے حساب اضافہ ہورہا ہے۔ لاکھوں گاڑیوں کے سڑکوں پر آجانے سے بھی ٹریفک مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ شہر حیدرآباد دہلی ۔ ممبئی وغیرہ سے بالکل الگ ہیں۔ جہاں شہر کے مضافات میں میاں پور، شمس آباد، بی ایچ ای ایل اور ایل بی نگر وغیرہ ایسے مقامات جہاں جس کو ترقی دیتے ہوئے اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ انفراسٹرکچر ، پینے کا پانی، ڈرینج، سڑکوں وغیرہ کی سہولتیں فراہم کرنے سے شہر حیدرآباد پر کافی حد تک بوجھ کم ہوسکتا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ عوام سہولتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے شہر کے احاطے میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جس سے شہر حیدرآباد پر ہر طرح کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر ہورہی ہیں۔ طلب کے مطابق پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے اور چلنے پھرنے کیلئے وسیع سڑکیں نہیں ہیں۔ اگر میاں پور، شمس آباد، ایل بی نگر اور بی ایچ ای ایل میں نئے شہر بساتے ہوئے عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی تو حیدرآباد پر مزید بوجھ عائد نہیں ہوگا۔ مگر شرط ہے کہ ان چار مقامات پر سہولتیں دستیاب ہوں۔ ایک اندازے کے مطابق ان چار مقامات پر شہر کو بسانے کے لئے 20 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہوگی۔ اتنی بھاری رقم کا ایک ساتھ دستیاب ہونا مشکل کام ہے مگر ناممکن نہیں ہے کیوں کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر گھر گھر نلوں سے پینے کا پانی پہونچانے کے لئے مشن بھاگیرتا پر 40 ہزار کروڑ روپئے خرچ کررہے ہیں تالابوں کے احیاء کے لئے مشن کاکتیہ پر 25 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ 20 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اگر ایک سال میں 20 ہزار کروڑ روپئے خرچ نہیں کرسکتے تو ہر سال کم از کم 5 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جاسکتے ہیں جس سے شہر حیدرآباد میں تھوڑی سی بارش سے ہونے والی مشکلات کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT