Monday , July 16 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر میں بارش کے دوران درجنوں مسائل ، عوام کی جانوں کو خطرہ

شہر میں بارش کے دوران درجنوں مسائل ، عوام کی جانوں کو خطرہ

حیدرآباد ۔ 12 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : دونوں شہروں حیدرآباد اور سکندرآباد میں گذشتہ چند دنوں سے بارش کا ایک سلسلہ چل رہا ہے جو ایک جانب ریاست تلنگانہ کے علاوہ دونوں شہروں کی زیر زمین آبی سطح میں اطمینان بخش اضافے کے لیے ضروری ہے تو دوسری جانب شہری امور کے متعلق مختلف محکموں اور عہدیداروں کی غیر منصوبہ بند کاموں کی وجہ سے عوام کو مختلف مقامات پر مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ کسی مقام پر دن کے اجالے میں بھی اسٹریٹ لائٹ جل رہی ہیں تو کسی محلے میں پینے کا پانی کئی کئی دنوں سے سربراہ نہیں کیا جارہا ہے تو کسی محلے میں پینے کے پانی کے نام پر موریوں کا گندہ پانی ، نلوں سے مل رہا ہے ۔ کئی مقام پر بارش کے پانی کے درمیان ہی سڑکوں کی مرمت جاری ہے جو ٹرافک کے مسائل کو کم کرنے کی بجائے ان مسائل میں مزید اضافہ کررہی ہے ۔ رحمت نگر کے علاقے ہنومان پوچم مندر کے نزد گذشتہ 5 دنوں سے اسٹریٹ لائٹ مسلسل جل رہی ہے اور مقامی عوام کو یہ خدشہ ہے کہ بغیر کسی رکاوٹ کے اس لائن میں برقی سربراہی سے شارٹ سرکٹ کا کوئی حادثہ پیش نہ آجائے علاوہ ازیں برقی کا بھی بے وجہ صرفہ ہے کیوں کہ یہ لائٹ فی گھنٹہ 20 واٹ برقی استعمال کرتی ہے اور 120 گھنٹوں سے مسلسل لائٹ جلنے سے 2400 واٹ برقی ضائع ہوچکی ہے جب کہ دیہی علاقے میں اتنی برقی سربراہی کے ذریعہ 12 دنوں تک گھروں کو روشن کیا جاسکتا ہے ۔ برسات میں کئی علاقوں میں گندے پانی کی سربراہی کی شکایت بھی موصول ہورہی ہیں جیسا کہ متنازعہ بی جے پی لیڈر راجہ سنگھ کے علاقے گوشہ محل کے محلے ہندی نگر کالونی میں نل سے بدبودار ڈرینج پانی سربراہ ہوا ہے ۔ یہاں یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں بلکہ کئی مہینوں سے گوشہ محل کے کئی محلوں میں وقتا فوقتاً نل سے ڈرینج کا پانی آرہا ہے ۔ ہندی نگر کالونی کے مکین راجیو کیشور نے کہا کہ ڈرینج اور نل کا پائپ کا پانی مل جانے سے نل سے گندہ پانی سربراہ ہورہا ہے ۔ چنتل بستی کے عوام کو ڈرینج کا پانی سڑکوں پر پہنچنے کے مسائل کا سامنا ہے حالانکہ 2 دن قبل ہی جی ایچ ایم سی نے ڈرینج سسٹم کا مرمتی کام کیا تھا لیکن صرف چند گھنٹوں بعد ہی گندہ پانی سڑکوں پر دوبارہ بہنا شروع ہوگیا ہے ۔ خیریت آباد سے گذرنے والی ٹرافک کو اپنے مسائل جان پر بن آئے ہیں کیوں کہ یہاں سڑک کی کھدائی اور لب سڑک گڑھا ہوجانے سے ایک جانب ٹرافک جام کا مسئلہ ہے تو دوسری جانب بارش کے دوران کسی بھی بڑے حادثے کے خدشہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ بیگم پیٹ کے بس اسٹاپ کو استعمال کرنے والی عوام کو بارش کے پانی میں بھیگنا پڑرہا ہے کیوں کہ بیگم پیٹ کے بس اسٹانڈ کو عام بس اسٹانڈ سے اے سی بس اسٹانڈ میں تبدیل کیا جارہا ہے اور تعمیراتی کاموں کی وجہ سے بس اسٹاپ کی کھدائی کردی گئی ہے اور یہاں پتھر ، مٹی اور دیگر ملبہ پڑا ہوا ہے جس سے بس کا انتظار کرنے والے مسافرین کے سر پر چھت باقی نہ رہا۔ مختلف محلوں کے عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیکہ حکام برسات کے آغاز اور بارش کے دوران آخر کیوں سڑکوں کی مرمت کا کام لئے بیٹھے ہیں؟۔

TOPPOPULARRECENT