Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں بین ریاستی بھکاریوں کی ٹولیاں سرگرم

شہر میں بین ریاستی بھکاریوں کی ٹولیاں سرگرم

معذور، بیمار یا زخمی ہونے کا ڈھونگ رچاکر راہگیروں کو تنگ کرنے کے واقعات میں اضافہ
حیدرآباد /9 اکتوبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کو اسمارٹ سٹی بنانے کے سرکاری منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مختلف محکمہ جات سرگرم عمل ہیں۔ اسی طرح مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور حیدرآباد ٹریفک پولیس کی جانب سے شہر حیدرآباد کی سڑکوں کو بھکاریوں سے پاک کرنے کے منصوبہ کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن شہر کی سڑکوں بالخصوص اہم چوراہوں پر بھکاریوں کے ہجوم دکھائی دینے لگے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے اہم چوراہوں کے سگنلس پر بین ریاستی بھکاریوں کی ٹولی راہگیروں سے بھیک مانگتے ہوئے انھیں بدظن کرنے میں مصروف دکھائی دینے لگی ہے۔ ٹریفک پولیس نے جو منصوبہ تیار کیا تھا، اس کے مطابق شہر کے 68 چوراہوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جہاں سے بھکاریوں کے صفائے کو یقینی بنانے کی ذمہ داری مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور اس سلسلے میں کام کر رہی غیر سرکاری تنظیموں کو تفویض کی گئی تھی۔ ان گداگروں کو جی ایچ ایم سی کی جانب سے شلٹر فراہم کرتے ہوئے انھیں بھیک مانگنے سے روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن ٹریفک پولیس اور بلدیہ کی ان کوششوں کو اس وقت دھکا پہنچ رہا ہے، جب گداگروں کے نئے گروہ شہر پہنچ کر بھیک مانگنا شروع کردیتے ہیں اور چوراہوں پر ان کے قبضے ہونے لگتے ہیں۔ شہر میں فی الحال سیکڑوں کی تعداد میں مختلف ریاستوں بالخصوص شمالی ہند کی ریاستوں کے گداگروں کی ٹولیاں سرگرم ہیں، جو ہاتھوں اور پیروں پر بچوں کو پٹیاں باندھے یہ تاثر دیتے ہوئے بھیک مانگ رہی ہیں کہ بچے زخمی یا متاثرہ ہیں، لیکن ان گداگروں کی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ دونوں شہروں میں موٹر سائیکل راں اور آٹو میں سفر کرنے والے بالخصوص خواتین ان گداگروں سے پریشان نظر آرہی ہیں، کیونکہ یہ گداگر سگنل پر رکنے والے افراد کو مجبور کرنے کے انداز میں بھیک مانگ رہے ہیں اور انھیں اس عمل سے روکنے کے لئے کوئی موجود نہیں ہے، جب کہ یہ گداگر عوام کو دھوکہ دیتے ہوئے ٹھگ رہے ہیں، اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری محکمہ جات خواہ وہ پولیس ہو یا بلدیہ، اعلان کئے جانے والے منصوبے صرف کاغذی ہوا کرتے ہیں۔ ٹریفک پولیس نے چند ماہ قبل ایک سروے کرواتے ہوئے شہر میں موجود گداگروں کی باز آبادکاری کا منصوبہ پیش کیا تھا اور اس پر بڑی حد تک عمل آوری کو بھی یقینی بنانے کے اقدامات کئے گئے تھے، لیکن دیگر ریاستوں سے شہر پہنچ کر بھیک مانگنے والوں کی بڑھتی تعداد کے باعث ان منصوبوں پر ہو رہی عمل آوری کے اثرات نظر نہیں آرہے ہیں۔ شہر کو اسمارٹ سٹی میں تبدیل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ شہر کی سڑکوں کو اس طرح کے گداگروں کی سرگرمیوں سے پاک کیا جائے۔ معظم جاہی مارکٹ، لکڑی کا پل، مانصاحب ٹینک، شاہ علی بنڈہ، چار مینار، بشیر باغ چوراہا، عابڈس کے علاوہ شہر کے اہم چوراہوں پر اگر پولیس مستعدی کا مظاہرہ کرتی ہے تو یہ گداگر ان مقامات پر بھیک مانگنے سے فرار اختیار کریں گے۔ کیونکہ جب ان گداگروں کی تصویر کشی کی کوشش کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں فرار اختیار کرلیتے ہیں۔ اگر پولیس تھوڑی سی سختی کرتے ہوئے ڈھونگی گداگروں کو سڑکوں سے ہٹانے کے اقدامات کرتی ہے تو اس سے شہریوں کو کافی راحت حاصل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT