شہر میں بے ڈھنگی ٹریفک اور خستہ حال بسوں سے حادثات

چار افراد بشمول طالب علم اور کمسن لڑکی ہلاک ، عوام کی برہمی

چار افراد بشمول طالب علم اور کمسن لڑکی ہلاک ، عوام کی برہمی
حیدرآباد /18 ستمبر ( سیاست نیوز ) شہر و نواحی علاقوں میں سرکاری اور خانگی بسوں کی رفتار بے لگام اور بے قابو ہوگئی ہے جو نہ صرف ٹریفک جام بلکہ انسانی جانوں کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہے ۔ شہر و نواحی علاقوں میں آج ایسے چار مختلف واقعات پیش آئے جن میں 4 افراد بشمول ایک طالب علم ہلاک ہوگیا ۔ چندرائن گٹہ پولیس حدود میں ایک بس نے تین سالہ کمسن ثمینہ کو روند دیا جو اپنے والد کے ساتھ جارہی تھی ۔ اس حادثہ کے بعد ثمینہ کے والد بے خوشی ہوگئے ۔ اپنی کمسن بچی کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہلاک ہوتا دیکھ کر والد غلام رسول پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ تاہم برہم مقامی عوام نے حادثہ کے دلخراش مناظر کو دیکھ کر بے قابو ہوگئے اور بس پر اپنی برہمی کا اظہار کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ثمینہ اپنے والد غلام رسول کے ساتھ جارہی تھی اور اچانک بس نے انہیں اپنی زد میں لے لیا ۔ مقامی عوام اور پولیس ذرائع کے مطابق فلک نما ڈپو سے وابستہ آر ٹی سی بس ناکارہ ہوگئی تھی جس کو ویکر سیکشن کالونی کے علاقہ میں ایک سڑک کے بازو روک دیا گیا تھا تاہم آر ٹی سی کے عملہ نے اس کی مرمت کی اور مرمت مکمل ہونے کے بعد بس کو آن رکھا تاکہ اس کے انجن کو اطمینان بخش بنایا جائے ۔ تاہم اس دوران عملہ کی لاپرواہی اس حد تک تھی کہ بس میں کوئی نہیں تھا اور بس چالو تھی جس نے ان دونوں باپ بیٹی کو اپنی زد میں لے لیا ۔ جس کے سبب ثمینہ ہلاک اور ان کے والد زخمی ہوگئے ۔ دوسرا اس طرح کا حادثہ نارسنگی پولیس حدود میں پیش آیا ۔ جہاں 19 سالہ عبدالخلیل ہلاک ہوگیا جو بتایا جاتا ہے کہ ایک خانگی بس کی زد میں آگیا ۔ عبدالخلیل اکبر پورہ محمدی لائین ٹولی چوکی علاقہ کے ساکن عبدالقدیر کا بیٹا تھا جو 9 ویں جماعت کا طالب علم بتایا گیا ہے ۔ نارسنگی پولیس ذرائع کے مطابق آج دوپہر کے وقت عبدالخلیل سن سٹی کے علاقہ میں ایک خانگی کی زد میں آگیا ۔ بس نے اسے روند دیا جو برسر موقع ہلاک ہوگیا ۔ پرگی پولیس حدود میں ایک سرکاری بس کی زد میں آکر جو پڑوسی ریاست کی بتائی گئی ہے ۔ 28 سالہ محمد افضل ہلاک ہوگیا ۔ افضل منچانیلی علاقہ کا ساکن تھا وہ کل رنگاپور علاقہ سے آٹو میں گذر رہا تھا کہ پڑوسی ریاست کی آر ٹی سی بس نے آٹو کو ٹکر دے دی جس کے سبب افضل شدید زخمی ہوگیا جو علاج کے دوران کل رات فوت ہوگیا ۔ مادھاپور پولیس کے مطابق 37 سالہ ذاکر خان جو بچکنڈہ ضلع نظام آباد کے متوطن ملاخان کا بیٹا تھا ۔ آج صبح کے اوقات سڑک عبور کر رہا تھا کہ بڑے کرین کی ٹکر سے برسر موقع ہلاک ہوگیا ۔ جو پیشہ سے سیکوریٹی گارڈ تھا ۔ ان واقعات میں جہاں ایک طرف بسوں کے ڈرائیوروں کی لاپرواہی شامل ہے تو دوسری طرف ٹریفک پولیس کی عدم توجہ بھی قصوروار تصور کی جارہی ہے ۔ چونکہ ٹریفک پولیس پر ایسے الزامات پائے جاتے ہیںکہ وہ صرف سرکاری خزانوں کو بھرنے پر متوجہ ہیں بلکہ ایسے واقعات کے تدارک کیلئے ٹریفک پولیس کے اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT