Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر میں جگہ جگہ غیر مجاز ہورڈنگس و بیانرس

شہر میں جگہ جگہ غیر مجاز ہورڈنگس و بیانرس

بلدیہ کارروائی کرنے سے قاصر، مروجہ قواعد کی کھلے عام خلاف ورزی

حیدرآباد۔15اپریل(سیاست نیوز) شہر میں غیر مجاز ہورڈنگس اور بیانرس کے علاوہ شہر کی خوبصورتی کو متاثر کرنے والے فلیکس کی تنصیب کے متعلق حکومت کی جانب سے متعدد مرتبہ انتباہ جاری کرنے کے علاوہ خود کئی سرکاری پروگراموں کے دوران ریاستی وزراء کی موجودگی میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کی جانب سے شہر میں کئی مقامات پر برسراقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والی جماعت کے نہ صرف کارکنوں بلکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے کارپوریٹرس کو بھی چالان کئے جا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے بیانرس ‘ فلیکس اور ہورڈنگس کی تنصیب سے کوئی گریز نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے شخصی ‘ قائدین اور جماعت کی تشہیر کیلئے بیانرس اور فلیکس کا استعمال کیا جا رہاہے اور اس پر کئوی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کے متعلق شہریو ں میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ پرانے شہر میں جی ایچ ایم سی عہدیداروں میں اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ سیاسی بیانرس‘ فلیکس لگانے والے سیاسی قائدین کے خلاف کاروئی کر سکیں یا ان کی اس حرکت پر انہیں چالان کیا جا سکے۔ حکومت تلنگانہ فلیکس اور بیانرس کی تنصیب پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہاتھا کہ شہر کے نالوں اور ڈرینیج میں ان فلیکس کے پھنس جانے کے سبب محلوں اور کالونیوں میں پانی جمع ہونے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں اسی لئے شہر میں ان بیانرس اور فلیکس کے استعمال سے اجتناب کیا جاناچاہئے لیکن اگر پرانے شہر کے بیشتر علاقوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ شہر کے اس خطہ میں بیانر اور فلیکس کی تنصیب میں من مانی کی جاتی ہے اور اس کا آغاز نیاپل کے آغاز کے ساتھ ہی ہوجاتا ہے جہاں مشتہرین کی جانب سے سیاسی ماڈلس کا استعمال کرتے ہوئے بیانرس اور فلیکس کے علاوہ ہورڈنگس نصب کئے جاتے ہیں تاکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ان سیاسی ماڈلس کو دیکھتے ہوئے ہورڈنگس‘ بیانرس اور فلیکس نکالنے سے گریز کرے۔ اسی طرح پرانے شہر کے کئی محلہ جات میں بھی مقامی سیاسی جماعت کے قائدین کی جانب سے بڑے بڑے ہورڈنگس اور بیانرس کی تنصیب معمول کی بات بنی ہوئی ہے لیکن ان سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو نہ ہی مقامی کارپوریٹر کی جانب سے روکا جاتا ہے اور نہ ہی دیگر قائدین اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والے اس عمل سے گریز کریں۔

TOPPOPULARRECENT