Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں سوائن فلو کی وباء ، عنبرپیٹ میں 2 نئے کیسیس

شہر میں سوائن فلو کی وباء ، عنبرپیٹ میں 2 نئے کیسیس

صفائی کے انتظامات پر فوری توجہ ضروری ، وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا اندیشہ
حیدرآباد۔/25فبروری،( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں ایک مرتبہ پھر سوائن فلو جیسی خطرناک وباء کے اثرات منڈلانے لگے ہیں۔ گزشتہ یوم علاقہ عنبر پیٹ سے تعلق رکھنے والے دو شہریوں کا سوائن فلو ٹسٹ کیا گیا جو کہ مثبت پایا گیا۔ ان سوائن فلو کے مریضوں کا علاج جاری ہے لیکن اچانک شہر میں سوائن فلو کے مریض پائے جانے کے بعد بلدیہ کی جانب سے چوکسی اختیار کرنے کے اقدامات شروع کئے جاچکے ہیں۔ حیدرآباد میں گزشتہ ایک برس کے دوران کئی سوائن فلو کے مریضوں کا علاج ممکن ہوپایا ہے لیکن اس کے باوجود خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا جس کی وجہ بتایا جاتا ہے کہ جابجا گندگی اور کچرے کے انبار کے علاوہ مچھروں کی کثرت ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں روزانہ کچرے کی عدم نکاسی سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہے اور مچھروں کی افزائش کو روکنے کیلئے مناسب اقدامات نہ کئے جانے کے سبب صورتحال دگرگوں ہوتی جارہی ہے۔ گاندھی ہاسپٹل سے رجوع ہونے والے ان مریضوں کو سوائن فلو کی توثیق کے بعد انتہائی سخت نگہداشت والے وارڈ میں رکھتے ہوئے علاج کیا جارہا ہے۔ محکمہ بلدیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے ان اطلاعات کے بعد اپنے ماتحتین کو ہدایت دی ہے کہ وہ فی الفور اقدامات کرتے ہوئے مچھروں کی افزائش کو روکنے کے علاوہ کچرے کی نکاسی پر توجہ دیں۔ سوائن فلو سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ صاف صفائی کو یقینی بنایا جائے اور جہاں تک ممکن ہوسکے ہاتھ صاف رکھنے کی کوشش کی جائے۔ رہائشی محلہ جات میں کچرے کی عدم نکاسی کے سبب بدبو و تعفن پھیل رہا ہے اور مچھروں کی افزائش و گندگی سے سوائن فلو پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اسی لئے یہ ضروری ہے کہ بلدی عہدیدار فوری حرکت میں آتے ہوئے شہر کے رہائشی و تجارتوں علاقوں سے روزانہ کچرے کی نکاسی کو یقینی بنانے کے ساتھ صاف صفائی کے عمل کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔ علاقہ عنبر پیٹ سے اچانک دو سوائن فلو کے مریض دواخانہ سے رجوع ہونے کے باعث علاقہ کے عوام میں بھی بے چینی کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے اور عوام کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر عنبرپیٹ کے سلم علاقوں میں مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کا آغاز کیا جائے تاکہ صحت عامہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT