Wednesday , December 12 2018

شہر میں سوائن فلو کے چار کیسیس ، ادویات کی قلت

مریضوں میں دو حاجی بھی شامل ، ایک ہی خاندان کے 15 ارکان میں سوائن فلو کی علامتیں ، حکام خاموش

مریضوں میں دو حاجی بھی شامل ، ایک ہی خاندان کے 15 ارکان میں سوائن فلو کی علامتیں ، حکام خاموش
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی ) : سوائن فلو ایسا لگتا ہے کہ شہر کو پھر ایک بار اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔ شہر کے خانگی ہاسپٹلوں میں فی الوقت سوائن فلو سے متاثرہ کئی افراد رجوع ہوئے ہیں لیکن افسوس کہ ان کی زندگیاں بچانے کے لیے سرکاری ہاسپٹلوں میں ادویات ہی نہیں ہیں ۔ انسٹی ٹیوٹ آف پرونیٹو میڈیسن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جاریہ ہفتہ اگرچہ کئی مریض اس ادارے سے سوائن فلو ٹسٹ کرانے کے لیے رجوع ہوئے جن میں سے چار کے ٹسٹ مثبت نکلے اس جان لیوا بیماری H1N1 انفلوئزا سے متاثرہ مرد / خاتون یا بچوں کے ربط میں آنے والے افراد بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو مریض اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ 28 اکٹوبر کو شہر سے تعلق رکھنے والے کچھ حجاج حیدرآباد پہنچے ان کے استقبال کے لیے افراد خاندان جن میں چھوٹے بچے بھی شامل ہیں ، اپنے بزرگوں کا استقبال کیا ان کے گلے لگے ، ان حجاج میں ایک جوڑا ایسا بھی تھا جو اپنے گھر پہنچتے ہی بیمار ہوگیا ۔ ابتداء میں ہلکی کھانسی ہوئی اور پھر کھانسی نے شدت اختیار کرلی ۔ مقامی دواخانوں میں علاج کرایا گیا کچھ افاقہ نہیں ہوا ۔ پھر کیر ہاسپٹل میں انہیں بھرتی کردیا گیا وہاں کے سینئیر پلمونالوجسٹس نے سوائن فلو کا ٹسٹ کرانے کا مشورہ دیا ۔ بیوی کا سوائن فلو ٹسٹ مثبت نکلا ۔ اس خاتون کے ایک فرزند نے بتایا کہ کیر ہاسپٹل میں ان کے والدین کو بالکل الگ تھلگ رکھ کر علاج کیا گیا اور پھر دو دن بعد یہ کہتے ہوئے ڈسچارج کردیا گیا کہ گھر میں انہیں الگ تھلگ رکھ کر OSEL TAMIVIR TABLET (TAMIL FLU) ، 150mg دس روز تک دی جائے لیکن حیرت اور فکر کی بات یہ ہے کہ شہر میں گاندھی ہاسپٹل سے لے کر عثمانیہ ہاسپٹل اور دیگر سرکاری ہاسپٹلوں و نگہداشت صحت کے اداروں میں یہ گولیاں دستیاب نہیں ہیں ۔ جس سے اس خاندان کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس نوجوان نے اپنا نام اور پتہ ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب ان کے گھر میں بھاوج بھی سوائن فلو سے متاثر ہوگئیں ہیں اور دیگر ارکان خاندان میں جن کی تعداد تقریبا 15 ہیں ۔ سوائن فلو کی علامتیں پائی گئی ہیں ۔ اگرچہ اس خاندان کے چند افراد نے سیاسی قائدین اعلی عہدیداروں وغیرہ کو اپنی حالت سے واقف کرایا ہے لیکن اب تک سرکاری سطح پر کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ اگر سرکاری حکام کی غفلت کا سلسلہ کچھ اور گھنٹے یوں ہی جاری رہتا ہے تو ممکن ہے کہ اس خاندان کے تمام افراد بھی سوائن فلو کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ اس خاندان کا مطالبہ ہے کہ انہیں علحدہ گوشہ میں رکھتے ہوئے تمام کے معائنہ کئے جائیں انہیں TAMIL FLU اور STAR فلو گولیاں اور SYRUP فراہم کیا جائے بصورت دیگر وہ بھی اس خطرناک متعدی مرض میں مبتلا ہوجائیں گے جس سے اطراف و اکناف میں بھی یہ بیماری وباء کی حیثیت اختیار کر جائے گی ۔ اس بات کا پتہ چلا ہے کہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ سارے تلنگانہ میں سوائن فلو پر قابو پانے کی ادویات ہی نہیں ہیں ۔ یہ ادویات مرکزی حکومت فراہم کرتی ہے ۔ واضح رہے کہ جاریہ سال جنوری تا جولائی تلنگانہ میں سوائن فلو کے کم از کم 20 کیسیس ریکارڈ کئے گئے ۔ اس مدت کے دوران 7 اموات ہوئیں اور دو افراد جون میں اس بیماری کا شکار ہوئے حال ہی میں منظر عام پر آئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2009 میں 841 ، 2010 میں 758 ، سال 2011 میں 11 ، سال 2012 میں 220 اور فروری 2013 تک سوائن فلو کے 13کیسوں کا اندراج عمل میں آیا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ صحت اس جانب فوری توجہ دے ورنہ سوائن فلو کی وباء پھیل جائے تو اس پر قابو پانا مشکل ہوگا ۔۔

TOPPOPULARRECENT