Thursday , August 16 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر میں سود خور دوبارہ سرگرم ‘ یومیہ تجارت کرنے والے اصل شکار

شہر میں سود خور دوبارہ سرگرم ‘ یومیہ تجارت کرنے والے اصل شکار

زیادہ شرح سے سود کی وصولی ۔ طویل مدتی قرض پر جائیداد کے دستاویزات بھی رکھ لئے جاتے ہیں
حیدرآباد 12اگست ( سیاست نیوز) شہر میں سودخور پھر سے سرگرم ہوگئے ہیں ‘ غریب و متوسط طبقات کی معاشی تنگدستی کا فائدہ اٹھا کر انہیں ابتداء میں کم شرح سود پر قرض فراہم کرتے ہیں اور رقم دیتے وقت پرامسری نوٹس اور سادہ چیک قرض داروں سے حاصل کرتے ہیں یا گھروں ‘ پلاٹس اور فلیٹس وغیرہ کے رجسٹریشن کاغذات بطور ضمانت حاصل کرکے کہتے ہیں کہ قرض کی ادائیگی ہوتے ہی کاغذات لوٹا دیئے جائیں گے اور اس کے بعد سود خور اپنا اصلی چہرہ دکھاتے ہیں ۔ قرض دار کی ضرورت پوری ہونے تک خاموشی اختیار کرتے ہیں اور اس کے چند دن بعد سے 10-5 روپئے شرح سود ادا کرنے کا حکم صادر کرتے ہیں اور اگر کوئی قرض دار زیادہ شرح سود کی ادائیگی سے انکار کرتا ہے تو قرض لیتے وقت دیئے گئے بلینک چیک بینک میں جمع کر کے چیک باؤنس کیس میں جیل روانہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور اتنا ہی نہیں بلکہ ضمانت کے طور پر رکھے گئے رجسٹری کاغذات کے ذریعہ جائیداد ہراج کرنے کی دھمکی بھی دیتے ہیں ۔ ہر حال میں قرضدار سود خوروں کے چنگل میں پھنس جانے کی وجہ سے سودخوروں کے حوصلے کافی بلند ہورہے ہیں اور قرض دار افراد سودخوروں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن کر رہ جاتے ہیں ۔ اس طرح شہر میں ہزاروں افراد سودخوروں کے چنگل میں پھنس کر ظلم سہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے جبکہ پولیس بھی سودخوروں کا ساتھ دینے کی وجہ سے سودخوروں کے حوصلے مزید بلند ہوتے جارہے ہیں اور سود خور بڑی شرح سود پر رقم فراہم کرکے غریبوں اور متوسط طبقات کی معاشی کمر توڑ رہے ہیں ۔ قرض دار افراد قرض اور شرح سود کی ادائیگی کرنے کے باوجود پرمیسری نوٹس ‘ خالی چیکس و جائیدادوں کے کاغذات سودخور واپس نہیں کررہے ہیں بلکہ قرض داروں سے مزید رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں ‘ ورنہ جائیداد رجسٹریشن کاغذات کو اپنے نام پر رجسٹریشن کروانے کا دباؤ ڈالتے ہیں ۔ اس معاملہ میں مقامی قائدین و پولیس متاثرین کی مدد کرنے کی بجائے سود خوروں کی پیٹھ تھپتھپانے کی وجہ سے متاثرین بیحد پریشانیوں میں مبتلا ہورہے ہیں ۔ مثال کے طور پر شہر کے چند واقعات میں سے حالیہ دنوں ونستھلی پورم پولیس حدود میں کیا گیا ایک سیٹلمنٹ ہے جس میں پولیس نے سودخوروں کی جانبداری دکھائی ہے ۔سڑکوں پر چھوٹی موٹی تجارت کرنے والے غریب تاجرین کو سودخور نشانہ بنارہے ہیں اور ان کی روزآنہ کی ضروریات کی تکمیل کی آڑ میں انہیں لوٹ رہے ہیں ۔ اگر ترکاری فروش صبح 100روپئے قرض لیتا ہے تو شام میں 20 – 10روپئے زائد ادا کرنا پڑتا ہے یعنی اگر صبح میں 1000روپئے قرض لیا جاتا ہے تو شام میں 150 – 100 روپئے اصل رقم کے ساتھ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ اس طرح شہر میں چھوٹے تاجرین روزانہ سامان کی خریداری کیلئے رقم حاصل کر کے سودخوروں کی لوٹ کا شکار ہورہے ہیں ۔ رچہ کنڈہ کمشنر مہیش بھگوت نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقات بڑی شرح پر قرض فراہم کر کے پریشان کرنے والے سودخوروں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ رقم کی ادائیگی کے باوجود پریشان کرنے والے سود خوروں کے خلاف پولیس سے شکایت کریں اور اگر وہاں انصاف نہ ملے تو اعلیٰ حکام سے شکایت کرسکتے ہیں یا ہر ہفتہ منعقد پرجا دربار پروگرام میں آکر راست شکایت کرسکتے ہیں ۔ لہذا سودخوروں کے ظلم کو کسی حال میں برداشت نہ کریں ۔

TOPPOPULARRECENT