Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں صبح سویرے موسلادھار بارش ‘ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

شہر میں صبح سویرے موسلادھار بارش ‘ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

کئی مقامات پر سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا ۔ دفاتر کیلئے جانے والے ملازمین اور اسکولی طلبا کو بھی پریشانیاں
حیدرآباد۔19جون (سیاست نیوز) شہر میں صبح اولین ساعتوں شہر میں ہوئی موسلا دھار بارش کے سبب شہر کے کئی علاقوں میں عوام کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑا کیونکہ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے علاوہ کئی مقامات پر ڈرینیج ابل پڑے جس کے نتیجہ میں سڑکوں پر گندہ پانی بہتا رہا۔ گذشتہ شب سے ہی ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری تھا لیکن سحر کے فوری بعد بارش تیز ہونے کے سبب سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا اور صبح دفتری اوقات تک بھی کئی اہم سڑکوں پر پانی جمع رہا جس کے سبب اسکول جانے والے طلبہ و طالبا ت کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔صبح کے وقت پرانے شہر میں کئی سڑکو ں پر پانی جمع ہونے اور ڈرینیج کے ابل پڑنے سے مانسون کی آمد کی تیاریوں کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ۔مانسون کی آمد کے سلسلہ میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اجلاس منعقد کرتے ہوئے عہدیداروں کو ہدایت دینے کے علاوہ محکمہ موسمیات کی جانب سے بارش کی پیش قیاسی کئے جانے کے بعد کمشنر جی ایچ ایم سی ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے جمرجنسی عملہ کو متحرک رہنے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن اس کے باوجود صبح کے وقت اسکول و دفاتر جانے والوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بشیر باغ‘ سوماجی گوڑہ‘ خیریت آباد‘ مقطعہ‘ بیگم پیٹ‘ پولیس کنٹرول روم‘ لکڑی کا پل‘ فرسٹ لانسرز اور دیگر علاقوں میں بھی بارش کے پانی کے جمع ہونے سے زیادہ ڈرینیج کے ابل پڑنے سے لوگوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کی جانب سے کئے جانے والے دعوؤں کے مطابق بارش کے پانی کی نکاسی کے بلدیہ کی جانب سے مؤثر انتظامات کئے گئے ہیں لیکن ڈرینیج ابل پڑنے سے ان کے یہ دعوے جھوٹے ثابت ہونے لگے ہیں۔ حافظ بابا نگر‘ چندرائن گٹہ‘ نرخی پھول باغ‘ عیدی بازار‘ سنتوش نگر‘ ملک پیٹ کے علاوہ تاڑبن‘ کالا پتھر‘ جہاں نما‘ وٹے پلی‘ شاہ علی بنڈہ‘ مغلپورہ کے علاوہ شہر کے کئی علاقو ںمیں ڈرینیج ابل پرنے کی شکایات موصول ہوئیں لیکن اس کے باوجود ایمرجنسی عملہ کی جانب سے کوئی کاروائی نہ کئے جانے کے سبب دوپہر تک بھی کئی علاقوں سے پانی کی نکاسی ممکن نہیں ہو پائی۔جی ایچ ایم سی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ برساتی پانی کی نکاسی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لئے ڈرینیج نظام کی درستگی اور صفائی عمل میں لائی جا چکی ہے لیکن بعض علاقو ںمیں کچہرا نکال کر مین ہول کے قریب رکھے جانے کے سبب بارش کے پانی سے واپس کچہرا ڈرینیج لائن میں چلا گیا ہے ۔عہدیداروں کے اس اعتراف کے باوجود کنٹراکٹرس کو بلوں کی ادائیگی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عہدیداروں کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات پر عمل آوری کنٹراکٹرس ضروری نہیں سمجھتے اور انہیں اس بات کا یقین ہو چلا ہے کہ ان کی غلطیوں کی پردہ پوشی کیلئے بھی عہدیدار و بااثر افراد موجود ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT