Tuesday , December 18 2018

شہر میں عربی و لبنانی غذاؤں کے رجحان میں اضافہ

پکوان اور صاف صفائی پر نظر رکھنے بلدی عہدیداروں کے دورے

پکوان اور صاف صفائی پر نظر رکھنے بلدی عہدیداروں کے دورے
حیدرآباد ۔30 ۔ جون ۔ (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں رمضان کے دوران سحر میں عربی و لبنانی کھانوں کے رجحان میں اضافہ کی توقع ہے۔ دونوں شہروں میں عربی و لبنانی ہوٹلوں کے آغاز کے سبب عوام میں ان کھانوں کے استعمال کے رجحان میں زبردست اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران عربی و لبنانی غذاؤں کے مراکز کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے اور اب یہ مراکز مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ذمہ دار عہدیدار عربی و لبنانی کھانوں کی تیاری میں صفائی کا جائزہ لینے کیلئے ہنگامی دوروں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیدار عربی غذاؤں کے مراکز کا اچانک معائنہ کرتے ہوئے غذاؤں کی تیاری میں کی جانے والی احتیاط اور صفائی کا جائزہ لیں گے۔ واضح رہے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے یہ واضح کیا جاچکا ہے کہ حلیم کے مراکز پر جی ایچ ایم سی کی جانب سے خصوصی نظر رکھی جائے گی اور گندگی پھیلانے والے اوٹ لیٹس کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں جن مراکز پر تیاری کے دوران صفائی میں احتیاط نہیں برتی جاتی ہے ، ان کے خلاف کارروائی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ماہِ رمضان کے دوران محکمہ پولیس کی جانب سے کھانے کے مراکز اور بازاروں کو رات دیر گئے تک کھلے رکھنے کی اجازت کے ساتھ ہی بازاروں کی رونق میں اضافہ ہوچکا ہے لیکن آئندہ چند یوم میں بازاروں کی رونق میں مزید اضافہ ہوگا۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے دونوں شہروں کے اہم بازاروں بالخصوص ، مساجد کے اطراف و اکناف سے کچرے کی نکاسی کے خصوصی انتظامات کئے جارہے ہیں اور ہوٹل مالکین کو اس بات کی ہدایت دی جاچکی ہے کہ وہ مجلس بلدیہ کی جانب سے کچرے کی نکاسی کے سلسلہ میں اختیار کردہ منصوبے سے استفادہ کریں۔ عربی و لبنانی غذاؤں کے مراکز کے متعلق عہدیداروں میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے مالکین کو چاہئے کہ وہ قوانین و ضوابط کا خصوصی خیال رکھتے ہوئے کسی قسم کی کوئی ایسی گنجائش فراہم نہ کریں جس سے ان کے خلاف کارروائی کے آثار نمایاں ہوں۔

TOPPOPULARRECENT