Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر میں غیر مجاز لال اور اُودی بتیوں کا استعمال

شہر میں غیر مجاز لال اور اُودی بتیوں کا استعمال

حیدرآباد 17 جون (سیاست نیوز) شہر میں اہم ترین شخصیات کی حمل و نقل میں آسانی پیدا کرنے کے لئے پولیس کی جانب سے تعاون کیا جاتا ہے اور شہری بھی اہم شخصیتوں کے گزرنے کے دوران اُنھیں راستہ فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح ایمبولینس و ہنگامی خدمات کی گاڑیوں کی حمل و نقل کو بھی آسان بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ لیکن حالیہ عرصہ میں یہ بات دیکھنے میں

حیدرآباد 17 جون (سیاست نیوز) شہر میں اہم ترین شخصیات کی حمل و نقل میں آسانی پیدا کرنے کے لئے پولیس کی جانب سے تعاون کیا جاتا ہے اور شہری بھی اہم شخصیتوں کے گزرنے کے دوران اُنھیں راستہ فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح ایمبولینس و ہنگامی خدمات کی گاڑیوں کی حمل و نقل کو بھی آسان بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ لیکن حالیہ عرصہ میں یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ شہر میں غیر مجاز لال بتی اور اُودی بتی کی گاڑیاں دوڑ رہی ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اِن گاڑیوں میں کوئی اہم شخصیت سفر کررہی ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے لیکن ڈیوٹی پر مامور پولیس عہدیدار اِس بات پر مجبور ہیں کہ وہ بتی والی گاڑیوں کو راہ فراہم کریں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بعض گاڑی مالکین گاڑیوں میں سائرن لگاتے ہوئے شہر میں گاڑیاں دوڑا رہے ہیں لیکن اُنھیں روک کر کوئی یہ پوچھنے والا نہیں ہے کہ وہ کس حیثیت سے سائرن بجاتے ہوئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح شہر میں حمل و نقل کررہی گاڑیوں کو جنھیں بتی لگی ہوئی ہے، پولیس عہدیدار روک کر یہ پوچھنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ آخر وہ کس حیثیت میں بتی لگاکر گھوم رہے ہیں۔ دونوں شہروں میں کئی ایسی گاڑیاں ہیں جو غیر مجاز بتی لگائے چلائی جارہی ہیں اور رات کے اوقات میں اِن گاڑیوں پر لگی بتی اکثر جلی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اِنھیں روکا نہیں جاتا۔ گاڑی پر بتی کے قوانین سے پولیس عہدیدار واقف ضرور ہیں لیکن اُن میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ جس گاڑی پر بتی لگی ہو اُسے روک کر استفسار کرے کہ آخر یہ گاڑی کس اہم شخصیت کی ہے اور کس حیثیت سے اِس گاڑی پر بتی لگائی گئی ہے۔ سائرن یا بتی ہی نہیں بلکہ بعض گاڑیوں کے نمبر پلیٹ پر سرخ پٹی پر عہدے و سابق عہدے درج کرتے ہوئے رعب ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ سرخ پٹی پر صرف سرکاری وہیکل درج کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں نمبر پلیٹ پر لگائی جانے والی سرخ پٹی اہم شخصیتوں کی گاڑیوں کے علاوہ سرکاری گاڑیوں کی علامت ہوتی ہے لیکن سرخ پٹی کا استعمال بھی دھڑلے سے کیا جارہا ہے اور اِس پر کسی قسم کی روک نہیں ہے۔ اسی طرح بعض افراد گاڑیوں پر پریس لکھتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں لیکن پریس تحریر کئے ہوئے بیشتر گاڑیوں کے مالکین کا تعلق صحافت سے نہیں ہوتا۔ اس بات کا اندازہ خود پولیس عہدیداروں کو ہے لیکن وہ یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ کہیں کوئی حقیقی صحافی کو پولیس کی چھان بین کے دوران دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ محکمہ پولیس کو چاہئے کہ وہ اِس خصوص میں مہم چلاتے ہوئے غیر مجاز افراد کی گاڑیوں پر سے بتی اور نمبر پلیٹس سے سرخ پٹی کے علاوہ سائرن نکالنے کے اقدامات کرتے ہوئے عوام کو راحت پہونچائے چونکہ عوام اِس طرح کے عناصر سے نہ صرف خوفزدہ ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات دھوکہ دہی کا شکار بھی بن جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT