شہر میں ماہ دسمبر میں جی آئی ایس میاپ کی اجرائی

حیدرآباد ۔ 20 ۔ نومبر : ( ایجنسیز ) : سروے کے دوران فیلڈ ویزٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ہوسکتا ہے کہ ہر وقت مختلف معلومات فراہم کرے ، تمام اسٹیڈیز سے جمع کئے جانے والی معلومات کو اگر یکجا کیا جائے تو یہ معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہ بات سرویر جنرل آف انڈیا سورتا سبا راؤ نے کہی ۔ ورلڈ جی آئی ایس ڈے کے موقع پر منعقدہ جیوگرافک انفارمیشن سسٹم ( جی آئی ایس ) ڈے ورکشاپ سے مخاطب کرتے ہوئے مسٹر راؤ نے کہا کہ حیدرآباد کا میاپ جلد ہی جاری کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اسے دو دہوں کے بعد دسمبر کے وسط میں جاری کیا جائے گا ۔ اور کہا کہ تمام شہری علاقوں کی میاپنگ بہتر مینجمنٹ کے لیے آسان سا حل ہے ۔ جی آئی ایس میاپنگ سے شہری علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کو معلوم کرنے میں بھی بہت آسانی ہوگی ۔ انہوں نے بتایا کہ ان دنوں GIS فارمٹ میں ڈیجیٹل میاپس کے لیے کافی مانگ کی جارہی ہے ۔ سروے آف انڈیا کے سابق ڈائرکٹر جی ایس کمار نے کہا کہ جی آئی ایس اب جیوسپٹیل ٹکنالوجیز کے طور پر مشہور ہے جس میں شامل ہے سٹیلائٹ امیجس ، جی پی ایس ، ڈیجیٹل میاپس ، فوٹو گرامیٹری ، کارٹو گرافی ، لینڈ سروئنگ اور لیزر بھی ۔ مسٹر کمار نے بتایا کہ دہلی میں حال میں Lidar ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 3D میاپنگ کو مکمل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ماضی میں کسی علاقہ کے 3D ڈیٹا کے پروسیس اور کیاپچر کرنے کے لیے مہینوں لگ جایا کرتے تھے لیکن اب Lidar سے صرف چند دن درکار ہوتے ہیں ‘‘ ۔۔

TOPPOPULARRECENT