Monday , May 21 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر میں ملائیشیاطرز پر اسکائی اسکراپرس و دیگر کئی ترقی کے پروگرام وعدوں تک محدود

شہر میں ملائیشیاطرز پر اسکائی اسکراپرس و دیگر کئی ترقی کے پروگرام وعدوں تک محدود

بلدیہ مالیہ کو مستحکم بنانے میں مصروف ، حسین ساگر کے اطراف فلک بوس عمارتوں کی تعمیر پر ماہرین کی رائے نظر انداز
حیدرآباد۔12نومبر(سیاست نیوز) حیدرآباد میں ملیشیاء کے طرز پر اسکائی اسکراپرس‘ ڈلاس امریکہ کے طرز پر شہر کے سلم علاقوں کی ترقی‘ پرانے شہر کے تاریخی عمارتوں والے علاقوں کی استنبول کے طرز پر ترقی کے علاوہ حسین ساگر میں واٹر بس چلانے کے اعلانات کے علاوہ شہر حیدرآباد میں حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے متعدد اعلانات کئے گئے ہیں لیکن گذشتہ تین برسوں کے دوران کئے گئے ان اعلانات میں کسی ایک پر بھی عمل آوری کا آغاز نہیں ہوپایا ہے اور نہ ہی کسی ایک منصوبہ کو قطعیت دینے کے اقدامات کئے گئے ہیں بلکہ حکومت کے اعلانات صرف اخباری بیانات کی حد تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں جن پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کوئی پہل ہوتی نظر نہیں آرہی ہے بلکہ اب ان اعلانات کا تذکرہ بھی نہیں کیا جاتا بلکہ ان اعلانات کے متعلق کوئی عہدیدار بات چیت کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں سے اس سلسلہ میں دریافت کئے جانے پر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہر کے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں کئے جانے والے کاموں کی انجام دہی کیلئے فنڈس کی قلت ہے اسی لئے بلدیہ کی مکمل توجہ جی ایچ ایم سی کے مالیہ کو مستحکم بنانے پر ہے تاکہ آئندہ برسوں کے دوران شہر میں معیاری بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا سکیں۔ محکمہ سیاحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حسین ساگر میں واٹر بس چلانے کے سلسلہ میں جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے لیکن حسین ساگر کی مکمل صفائی کے انتظامات ہونے کے بعد ہی اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلہ میں جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔ محکمہ سیاحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کیرالا میں چلائی جانے والی واٹر بس کے طرز پر حسین ساگر میں واٹر بس کی شروعات کے سلسلہ میں پراجکٹ کی تیاری کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ حسین ساگر میں واٹر اسپورٹس کو فروغ دینے کے سلسلہ میں کئے گئے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کے متعلق بھی تاحال کو ئی پیشرفت نہیں ہوئی اور نہ ہی اس سلسلہ میں کسی محکمہ کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیدارو ںنے شہرکے سلم علاقوں کو ڈلاس کے طرز پر ترقی دینے کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلہ میں دریافت کئے جانے پر شعبہ امکنہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ڈبل بیڈ روم اسکیم کے لئے بجٹ نہیں ہے اور جو بجٹ کی تخصیص عمل میںلائی گئی ہے اس بجٹ میں کنٹراکٹر کام کرنے تیار نہیں ہے اور ان مسائل سے اعلی عہدیداروں کو واقف کروایا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں تو ایسی صورت میں ڈلاس کے طرز پر شہر کی ترقی کے متعلق منصوبہ کی تیاری کے متعلق غور کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔پرانے شہر میں موجود تاریخی عمارتوں کو ترکی کے شہر استنبول کے طرز پر ترقی دیتے ہوئے تفریحی مرکز بنائے جانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اعلانات کا تاریخی عمارتوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے مضحکہ اڑایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت ایک جانب اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ تاریخی عمارتوں کی ترقی کے ذریعہ شہر کو استنبول کے طرز پر سیاحتی مرکز بنایا جائے گالیکن دوسری جانب سے شہر میں موجود دواخانہ عثمانیہ کی عظیم شاہکار تاریخی عمارت کے علاوہ دیگر کئی تاریخی عمارتوں کو تباہ ہونے کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ حسین ساگر کے قریب اسکائی اسکراپر کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس اعلان کے بعد ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی بلکہ صرف اس اعلان کا اعادہ بار بار کیا جاتا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ محکمہ ماہرین طبقات الارض کا کہناہے کہ حسین ساگر کے اطراف میں اونچی بلند تعمیرات کے لئے اراضیات بہتر نہیں ہیں کیونکہ اراضیات میں نمی کے سبب ان کی بنیادیں مضبوط نہیں ہو سکتی جبکہ اس طرح کی اونچی عمارتوں کے لئے انتہائی پختہ اور مضبوط زمینی سطح درکار ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT