Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں موثر ڈرینج سسٹم کیلئے نالوں پر قبضوں کی برخواستگی ناگزیر

شہر میں موثر ڈرینج سسٹم کیلئے نالوں پر قبضوں کی برخواستگی ناگزیر

برساتی پانی کی نکاسی کیلئے12000 کروڑ روپئے کے مصارف سے 5000 کیلو میٹر ڈرینج لائن کی ضرورت
٭  شہر میں نالوں کی 900 ایکر اراضیات پر ناجائز قبضے
٭  معمولی بارش سے جھیل بننے والے علاقے پہلے جھیل ہی تھے
٭   نالوں میں کچرے سے پانی کے بہاو میں رکاوٹ

حیدرآباد۔ 16اکٹوبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں ڈرینیج نظام اورپانی جمع ہونے کی شکایات کو دور کرنے کیلئے 900ایکڑ پر موجود ناجائز قبضہ ٔ جات کی برخواستگی ناگزیر ہے۔ نالوں کی توسیع و پانی کے آسان بہاؤ کو یقینی بنانے کیلئے تالابوں میں کئے گئے قبضوں اور نالوں پر کی گئی تعمیرات کو برخواست کرنے کا حکومت اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق عمل آوری کیلئے12000کروڑ روپئے درکار ہوں گے۔ شہر میں 30تا50ملی میٹر بارش حیدرآباد کے علاوہ نواحی علاقوں کو جھیل میں تبدیل کر رہی ہے اور اس جھیل میں تبدیل ہونے والے علاقوں میں درحقیقت آبادیوں کے بسنے سے قبل جھیل ہی ہوا کرتی تھیں۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہری حدود کو ان مسائل سے بچانے کیلئے قبضہ ٔ جات کی برخواستگی کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ 625مربع کیلو میٹر رقبہ پر محیط شہر حیدرآباد میں 5000کیلو میٹر نالے و ڈرینیج لائن درکار ہے جبکہ شہر میں فی الحال صرف 1500کیلو میٹر ڈرین لائن و نالے موجود ہیں جن میں توسیع کی جانا شہریوں کی حفاظت کیلئے ضروری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک شہر میں تالابوں میں کی گئی تعمیرات کو برخواست نہیں کیا جاتا اس وقت تک پانی کو جمع ہونے سے روکا جانا نا ممکن ہے ۔ انجنیئرس کی جانب سے لگائے تخمینہ کے مطابق شہر میں مکمل نئی ڈرینیج لائن کے لئے 12ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہے لیکن صرف ان 12ہزار کرور سے یہ کام مکمل نہیں کئے جا سکیں گے بلکہ ان کاموں کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ 900ایکڑ پر موجود وہ ناجائز قبضہ ٔ جات ہیں جو تالابو ں کے شکم میں اور نالوں پر کئے گئے ہیں ان قبضہ ٔ جات کی برخواستگی کیلئے یہ ضروری ہے کہ شہر میں پانی جمع ہونے سے پیدا ہونے والی مشکلات کے متعلق شعور بیدار کیا جائے اور حالیہ عرصہ میں ہوئی بارش سے زائد بارش کی صورت میں جو صورتحال پیدا ہوگی اس کے متعلق متنبہ کیا جائے۔ ان تالابوں کی اراضیات اور نالوں پر کئے گئے قبضوں کے خلاف جی ایچ ایم سی کے علاوہ محکمہ ٔ مال اور حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے درمیان تال میل کے ساتھ مہم کا آغاز کیا جانا چاہئے۔ان قبضہ ٔ جات کی برخواستگی کے لئے سیاسی مداخلت کا خاتمہ اور حکومت میں جرأت ہونی ضروری ہے۔ ماہرین کی کمیٹی کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق شہر کے تالابوں اور نالوں میں کچہرا پھینکنے کے سبب بھی بارش کے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے اسی لئے اس مسئلہ کے حل کیلئے بھی حکومت کو مستقل اقدامات کرنے چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT