Saturday , April 21 2018
Home / اداریہ / شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ

شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ

شہر حیدرآباد کے تعلق سے تلنگانہ حکومت کے منصوبے اور چیف منسٹر کے ساتھ ان کے کابینی رفقاء کے بیانات اب تک ایک خوش آئند پہلو اختیار کرتے جارہے تھے ۔ چیف منسٹر کے بیانات اب تک حیدرآباد کی تاریخ ، حال اور مستقبل کے حوالے سے پتھر پر لکیر بنتے جارہے تھے مگر جب حالات اور بیانات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ حیدرآباد کی عام زندگی اور ترقی کی رفتار میں فرق ہے ۔ حیدرآباد میں ٹریفک جام کا مسئلہ ہو یا آبادی کا پھیلاؤ اس پر عمیق جائزہ کے بغیر اگر حکومت صرف ترقیات کے اعلانات کرتے رہے گی تو شہریوں کو درپیش مسائل سے چھٹکارا نہیں مل سکے گا ۔ اسمبلی سیشن اور کونسل کے اجلاسوں میں متعلقہ ارکان نے حکومت کی توجہ شہر کے مسائل خاص کر ٹریفک جام کی جانب مبذول کرائی ہے مگر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو حکومت کو اس شہر کے بارے میں سنجیدہ ہونا ضروری ہے ۔ وزیر داخلہ نرسمہا ریڈی نے شہر میں ٹریفک جام کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے ایم ایل سی پی رویندرا اور محمد علی شبیر کی جانب سے اٹھائے گئے سوال اور مباحث کا جواب دیتے ہوئے جنوری 2017 میں ایک کیاب اگریگٹر کی جانب سے کرائے گئے سروے کا حوالہ دیا اور شہر میں ٹریفک بہاؤ میں اوسطاً بہتری کا ذکر کیا ۔ شہر کی ٹریفک میں بہتری کا دعویٰ کرنے والے وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ ٹریفک بہاؤ میں 18 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار تا 27.1 کیلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے ۔ ٹریفک کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے ٹریفک قواعد پر توجہ دی ہے اور پولیس کو کئی ایک اصول و ضوابط پر عمل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے ۔ خاص کر سڑکوں پر بڑھتے قبضوں کو برخاست کرنے پر زور دیا جارہا ہے ۔ ٹریفک کا مسئلہ اس لیے ہورہا ہے کیوں کہ شہری حدود میں 850 نئی گاڑیوں کا اضافہ ہورہا ہے ۔ اس کے علاوہ میٹرو ریل ورکس ، نامناسب راستوں اور خراب سڑکوں کی وجہ سے بھی ٹریفک میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں ۔ ان تمام خرابیوں کو دور کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ کی ضرورت ہے ۔ ایوان کونسل میں ٹریفک نظام کی ابتری کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے محمد علی شبیر نے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی تو وزیر داخلہ کو اس صورتحال کا حقیقی جائزہ لینے کا تیقن دینے کی ضرورت تھی لیکن انہوں نے ملک کے دیگر شہروں کے مقابل حیدرآباد کی ٹریفک صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے دعویٰ کے غلط ہونے پر استعفیٰ کی بھی پیش کش کی ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ حکومت اپنے حصہ کے طور پر شہر حیدرآباد میں ترقی کے لیے اقدامات کررہی ہے مگر حقیقت میں یہ اقدامات عملی طور پر کس حد تک شہریوں کے لیے کارآمد ثابت ہورہے ہیں اس کا جائزہ لیے بغیر چیلنجس کھڑے کرنا اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کا ایک بہانہ سمجھا جائے گا ۔ حکومت عالمی شہر کے طرز پر حیدرآباد کو ترقی دینا چاہتی ہے خاص کر امریکہ کے شہر ڈیلاس یا ترکی کے شہر استنبول کی طرز پر ترقی دی جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ اس حکومت نے اپنے صرف 3 سال پورے کیے ہیں اس مختصر وقفہ میں گنجان آبادی والے شہر حیدرآباد کی صورت گیری آسان کام نہیں ہے ۔ اس کے لیے ایک جامع ٹھوس منصوبے کے ساتھ تجربہ کار منیجرس کی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت کے منصوبوں کو بہتر انداز میں پورا کرسکیں ۔ دیکھا یہ جارہا ہے کہ حکومت صرف عوام کو دکھانے یا رجھانے کے منصوبے بنا رہی ہے یا بغیر پالیسی اور ٹھوس منصوبوں کے صرف اعلانات کررہی ہے جس سے عوامی خدمات کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہے ہیں ۔ ٹریفک بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک عملہ کو مستعد رکھنا چاہئے ۔ شہریوں کی عام شکایت یہ ہے کہ پولیس عملہ کو چالانات اور موٹر رانوں کو ہراساں کرنے پر مامور کیا گیا ہے جب کہ ٹریفک کو بہتر بنانے کے لیے عملہ کی کمی سے بے ہنگم ٹریفک مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ٹریفک پولیس عملہ کی تعداد میں اضافہ کیا جاکر نظام ٹریفک کو محسن طریقہ سے رائج کیا جائے ۔ ٹریفک پولیس آئے دن سڑکوں پر موٹر رانوں کو اندھا دھند طریقہ سے روک کر بیلٹ ، لائسنس ، انشورنس ، آلودگی سند کے عنوان سے پریشان کرتی ہے ۔ بلا شبہ ہیلمیٹ اور ٹریفک قواعد پر عمل آوری کے لیے پابند کرنے کے اقدامات سے شہریوں موٹر رانوں میں ایک نظم آتا دکھائی دے رہا ہے ۔ 12 پوائنٹس کی پالیسی سے بھی موٹر رانوں کو اپنے لائسنس کی منسوخی کا بھی خوف ہے اس لحاظ سے شہر میں ٹریفک بہاؤ کو بہتر بنانا ، دیگر قبضہ جات ، راستوں پر گاڑیوں کی رکاوٹوں ، من مانی پارکنگ جیسے مسائل کو ختم کرانا بھی محکمہ ٹریفک پولیس کی ذمہ داری میں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT