Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں پانی کی تجارت عروج پر، مستقبل میں آبی قلت ممکن

شہر میں پانی کی تجارت عروج پر، مستقبل میں آبی قلت ممکن

زیرزمین پانی کی سطح میں تشویشناک کمی، ماہرین موسمیات و طبقات الارض کا اعتراف
حیدرآباد 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) زیر زمین پانی کی سطح میں کمی شہریوں کے لئے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں زیرزمین سطح آب میں تیزی سے ہورہی کمی مستقبل میں آبی قلت کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے بموجب جاریہ سال ناکافی بارش کے سبب زیر زمین سطح آب میں تیزی سے گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے جس سے اس بات کا خدشہ لاحق ہوتا جارہا ہے کہ آئندہ موسم گرما میں شہری علاقوں میں کئی بورویلز ناکارہ ہوجائیں گے اور عوام کو شدید پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سال گزشتہ زیرزمین پانی 9.98 میٹر ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ اس سال اگسٹ تک اس میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ 9.77 تک پہونچ چکی ہے۔ ماہرین موسمیات و طبقات الارض کا ماننا ہے کہ اگر جاریہ سال بارش کی یہی صورتحال رہی تو آئندہ موسم گرما میں شدید آبی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ شہر کے اطراف موجود ذخائر آب میں ناکافی پانی کے علاوہ شہری علاقوں میں زمین میں پانی جذب ہونے کے مواقع موجود نہ رہنے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر میں غیر مجاز بورویلز کے باعث بھی زیرزمین سطح آب میں کمی واقع ہوتی جارہی ہے۔ زیرزمین سطح آب میں بہتری آبی سربراہی میں پیدا ہونے والی قلت کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوا کرتی تھی لیکن موجودہ صورتحال میں ذخائر آب کے ساتھ ساتھ زیرزمین سطح آب میں ہورہی کمی ہر دو جانب سے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب محکمہ آبرسانی کے علاوہ دیگر محکمہ جات کی جانب سے زیرزمین سطح آب میں آرہی گراوٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کی گنجان آبادیوں میں واٹر پلانٹ قائم کرتے ہوئے بورویلز کے ذریعہ پانی کی نکاسی اور مسلسل مشنری کے ذریعہ پانی نکالتے ہوئے اُسے فروخت کیا جانا بھی ایک اہم وجہ تصور کی جارہی ہے۔ ذرائع کے بموجب شہر کے بیشتر علاقوں میں آبادیوں کے درمیان پانی کے غیر مجاز کاروبار عروج پر پہونچ چکے ہیں جس کا محکمہ آبرسانی کی جانب سے سخت نوٹ لیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ غیر لائسنس یافتہ واٹر پلانٹس کے خلاف کارروائی کے سلسلہ میں متعلقہ محکمہ جات سے مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ زیرزمین سطح آب میں ہورہی کمی کو فی الفور روکا جاسکے۔ شہر کے کئی مقامات بالخصوص ایسے علاقے جہاں ناخواندہ افراد کی غالب آبادیاں ہیں اُن علاقوں میں واٹر پلانٹس قائم کرتے ہوئے کئے جارہے اِس کاروبار کے متعلق باضابطہ شکایات کی عدم وصولی کے سبب یہ کاروبار اب تک عروج پر تھے لیکن اب جبکہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں زیرزمین سطح آب میں تشویشناک حد تک گراوٹ آچکی ہے اور ناکافی بارش کے سبب اِس کا نوٹ لیا جانے لگا ہے تو ایسی صورت میں اِن واٹر پلانٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جاسکتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ واٹر پلانٹس میں پانی کو شفاف بنانے کا عمل مسلسل جاری رکھنے کے لئے زیرزمین پانی کی نکاسی بھی ناگزیر ہوتی ہے اور بیشتر کمپنیوں کی جانب سے زیرزمین پانی کا ہی استعمال کرتے ہوئے اُسے فروخت کیا جارہا ہے۔ سابق میں محکمہ آبرسانی کی جانب سے غیر مجاز طور پر پانی کی فروخت کرنے والے بعض کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی لیکن دونوں شہروں میں ایک مرتبہ پھر پانی کی تجارت عروج پر پہونچ چکی ہے۔ علاوہ ازیں بلدی و آبرسانی عہدیداروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ غیر مجاز بورویلز بھی زیرزمین پانی میں کمی کا سبب ہیں اور بورویلز کی کھدائی کے بعد زیادہ پریشر والے موٹرس کے ذریعہ پانی کی نکاسی کے سبب بھی یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے جس کے منفی اثرات موسم گرم کے دوران پڑسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT