Monday , July 23 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر میں ڈینگو مرض میں اضافہ ، وائرل بخار سے عوام پریشان حال

شہر میں ڈینگو مرض میں اضافہ ، وائرل بخار سے عوام پریشان حال

مچھروں کی کثرت ، حالیہ بارش کے بعد جگہ جگہ پانی جمع
حیدرآباد ۔ /11 اپریل (سیاست نیوز) شہر میں مرض ڈینگو میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ ڈینگو جس کی وجہ سے اس بیماری میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ وائرل فیور لاحق ہونے سے دواخانوں سے رجوع ہونے والے کی تعداد زیادہ ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ عظیم تر بلدیہ کی حدود میں گزشتہ تین ماہ کے اندر 154 ڈینگو کے مشتبہ کیسیس میں سے 51 ڈینگو کیسیس ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ اس کے باوجود عہدیداران ڈینگو کیسیس زیادہ نہ ہونے کا ادعا کرتے ہیں اور عہدیداران صرف سرکاری دواخانوں سے رجوع ہونے والے ڈینگو مریضوں کے ہی اعداد و شمار اکٹھا کررہے ہیں اور خانگی دواخانوں سے رجوع ہونے والے ڈینگو مریضوں کو ان اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا جارہا ہے اور اس مرض کی پہچان یہ ہے کہ عام بخار لاحق ہونے کے بعد بدن بے حد گرم ہوجاتا ہے اور بخار تقریباً ایک ہفتہ تک رہتا ہے جس کی وجہ سے سردرد ، سردی ، تھرتھراہٹ ، بہت زیادہ پسینہ آنا ، بدن درد ، منہ کا کڑوا ہوجانا ، کمزوری ، زکام ، بدن گرم ہونا جیسی علامات ہوں تو آپ شک کرسکتے ہیں کہ یہ ڈینگو مرض کی ہی علامتیں ہیں ، ڈاکٹرس کے مطابق ڈینگو مچھر گھروں میں موجود ایئر کولرس میں موجود پانی ، گھپلوں ، نہ بہنے والے پانی ، ٹائیرس ، بغیر ڈھکن کی پانی کی ٹینکوں وغیرہ میں اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں اور ڈینگو مچھر کے کاٹنے سے کلاسیکل ڈینگی ، ڈینگی ہیمرج فیور ، ڈینگی شاک سنڈروم ، جیسی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں ، وائرل فیور کی علامات کے مطابق مذکورہ امراض کا تعین کیا جاتا ہے ۔ کلاسیکل ڈینگی فیور ہو تو 7 – 5 دن بخار رہتا ہے اور یہ دواؤں کے ذریعہ ختم کیا جاسکتا ہے ۔ ڈینگی ہیمرج فیور لاحق ہو تو خون کے دورانیہ میں تبدیلی آتی ہے اور بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے اور ایسے مریض کو خصوصی نگرانی میں رکھ کر علاج کیا جاتا ہے ۔ ڈینگی شاک سنڈروم لاحق ہونے پر مریض کو خصوصی نگرانی میں رکھتے ہوئے پلاسمہ چڑھانا پڑتا ہے اور ایسے مریض کے پھیپھڑوں میں پانی بھرجانے کا اندیشہ بھی لاحق رہتا ہے اور مریض کو مصنوعی تنفس آلے کے ذریعہ خصوصی نگرانی میں رکھکر علاج کرنا پڑتا ہے ۔ ڈینگو مریض بلڈ پریشر میں کمی سے ہوشیار رہنا چاہئیے اور بی پی کم ہونے سے دل اور مثانوں کی کارکردگی میں تبدیلی آجاتی ہے اور بی پی میں اضافہ ہونے پر مریض کو پلیٹ لٹس چڑھانا پڑتا ہے ۔ لہذا ڈینگو سے محفوظ رہنے کیلئے مکمل بدن کو ڈھانکنے والے کاٹن کے لباس استعمال کریں اور گھروں سے مچھروںکے خاتمہ کا انتظام کریں اور گھر میں پکوان خانہ ( کچن) میں کھانے پینے کی اشیاء ہرگز کھلی نہ رکھیں اور کالونیوں و گھروں کے پاس موجود گڑھوں کو بند کرکے پانی کو رکھنے کا موقع نہ دیں اور ڈاکٹرس کا مزید کہنا ہے کہ ڈینگو مریض کو کاٹا ہوا مچھر دوسرے صحتمند شخص کو کاٹنے سے اسکو بھی مرض لاحق ہونے کا اندیشہ ہے اور ایسے مچھر ایک شخص کوکاٹنے اور مرض کی تشخیص ہونے تک مزید دس افراد کو کاٹ سکتے ہیں اور یہ مچھر رات کے اوقات میں نہیں بلکہ صرف دن کے اوقات ہی میں کاٹتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT