Monday , June 25 2018
Home / کھیل کی خبریں / شہر میں کھلے میں رفع حاجت کا سلسلہ برقرار

شہر میں کھلے میں رفع حاجت کا سلسلہ برقرار

جی ایچ ایم سی کو مرکزی حکومت سے بہترین بلدیہ کے اعزاز پر مبارکبادیاں
حیدرآباد۔11جنوری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کو مرکزی حکومت کی جانب سے کھلے میں رفع حاجت سے پاک شہر اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو بہترین بلدیہ کے اعزاز پر ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ اور جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کی جانب سے ایک دوسرے کو مبارکباد دی جارہی ہے لیکن شہر حیدرآباد کو کیا کھلے میں رفع حاجت سے پاک بنا دیا گیا ہے؟اگر اس حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ثابت ہوگی کہ شہر کے چنندہ مقامات پر اب بھی معمول کے مطابق کھلے میں رفع حاجت کا سلسلہ جاری ہے اور اسے کوئی روک نہیں پایا ہے بلکہ روکنے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔حیدرآباد کے مخصوص علاقہ جات جہاں کھلے میں رفع حاجت کو معیوب نہیں سمجھا جاتا ان علاقوں کا جائزہ لیں تو اب بھی ان مقامات پر کھلے میں رفع حاجت کا سلسلہ جاری ہے تو کس طرح حیدرآبادکو کھلے میں رفع حاجت سے پاک شہر قرار دیا جا سکتا ہے؟دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود مہاتما گاندھی بس اسٹیشن اور جوبلی بس اسٹیشن کے قریب اگر جائزہ لیا جائے تو روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں مسافرین کھلے میں رفع حاجت کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ اگر شہر کے علاقوں کا مشاہدہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ گولی گوڑہ ‘ کوٹھی‘ نارائن گوڑہ‘ ملے پلی‘ افضل گنج‘ بندلہ گوڑہ ‘ بنجارہ ہلز اور جوبلی ہلز کے علاقو ں میں بھی ایسے کئی مقامات ہیں جہاں کھلے میں رفع حاجت کے نظارے روزانہ نظر آتے ہیں ۔راجیو گاندھی نگر ‘ یوسف گوڑہ ‘ رحمت نگر کے علاوہ شہر کے مختلف پلے گراؤنڈ کے قریب میں بھی کھلے میں رفع حاجت کے واقعات معمول کی بات ہیں اور انہیں روکنے کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود شہر کو کھلے میں رفع حاجت کا اعزاز فراہم کیا جانا باعث حیرت بنا ہوا ہے۔بلدی عہدیداروں کا کہناہے کہ شہر کے ایسے کئی مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں کھلے میں رفع حاجت معمول بن چکا تھا لیکن ان مقامات کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے انہیں پاک وصاف بنایاجاچکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی بعض مقامات پر اس طرح کی حرکات ہو رہی ہیں لیکن انہیں روکنے کیلئے اب موبائیل ٹیموں کی تیاری کا منصوبہ ہے جو کھلے میں رفع حاجت کرنے والوںکو فوری چالان کرنے کی مجاز ہوں گی اور چالان ادا نہ کرنے والوں کو جیل بھیجنے کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے۔

TOPPOPULARRECENT