Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر میں ہورڈنگس ، کٹ آوٹس ، پوسٹرس کے خلاف مہم

شہر میں ہورڈنگس ، کٹ آوٹس ، پوسٹرس کے خلاف مہم

ہائی کورٹ کی برہمی کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کا عملہ غیر قانونی ہورڈنگس نکالنے مصروف
حیدرآباد ۔ 5 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں سڑکوں ، گلی کوچوں میں اندھا دھند طریقہ سے آویزاں کیے جانے والے ہورڈنگس کٹ آوٹس اور پوسٹرس پر ہائی کورٹ کی اظہار برہمی کے دوسرے دن گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے عملہ نے ان ہورڈنگس کٹ آوٹس ، فلیکس پوسٹرس کو نکالنا شروع کیا ہے ۔ حیدرآباد ہائی کورٹ نے جی ایچ ایم سی پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سیاسی پارٹیوں اور انفرادی شخصیتوں کو ہورڈنگس لگانے فلیکس اور کٹ آوٹس آویزاں کرنے کی اجازت دے کر شہر کی سڑکوں کو بدنما بنادیا ہے ۔ ڈیویژن بنچ نے جو چیف جسٹس بی بھوسلے اور جسٹس پی نوین راؤ پر مشتمل ہے تلنگانہ ونارلو پری رکھشنا سمیتی کی جانب سے داخل کردہ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے اپنے حصہ کے طور پر فرائض اور اصولوں سے کوتاہی کی ۔ جی ایچ ایم سی حکام کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے داخل کردہ درخواست پر ہائی کورٹ نے ہورڈنگس اور فلیکسی کے آویزاں کرنے کی اجازت دینے میں احتیاط کرنے کی جی ایچ ایم سی کو ہدایت دی اور غیر مناسب طور پر ٹیکسوں کی وصولی بھی غیر قانونی ہے ۔ درخواست گذار نے عدالت پر زور دیا کہ وہ جی ایچ ایم سی اور حکومت کو ہدایت دیں کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں ماہرین اور ٹیکنیشن کی ٹیم شامل ہو تاکہ ہورڈنگس اور فلیکسی بورڈس کی تنصیب کی اجازت دینے کے مسئلہ کا جائزہ لے سکے ۔ اس بحث کے دوران جب جی ایچ ایم سی کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ شہر میں کہیں بھی غیر قانونی ہورڈنگس نہیں ہیں تو بنچ نے برہمی سے کہا کہ یہ آپ کا ناقابل یقین بیان ہے ۔ کیوں کہ ججس خود روزانہ عدالت آتے وقت سڑکوں پر اس طرح کے کئی ہورڈنگس ، کٹ آوٹس اور فلیکس بورڈس دیکھتے ہیں ۔ بنچ نے کہا کہ انہوں نے اندازہ کیا ہے کہ شہر میں کئی جگہ فلیکسی بورڈس اور پوسٹرس ہیں ۔ سڑکوں کے دونوں کناروں اور درمیان میں ڈیوائیڈر پر بنے پولس پر کٹ آوٹس لگائے جاتے ہیں ۔ جن میں سیاستدانوں ، ایک فرد واحد کی سالگرہ پر مبارکباد دی جاتی ہے اس طرح کی حرکتوں کا بنچ نے سوال اٹھایا اور کہا کہ آخر جی ایچ ایم سی اس کو نظر انداز کیوں کررہا ہے ۔ حیدرآباد دونوں تلگو ریاستوں آندھرا پردیش ، تلنگانہ کا مشترکہ دارالحکومت ہے ۔ یہاں کئی سیاسی قائدین اور قومی شخصیتیں آتے ہیں ۔ ان کے یہاں مختلف کام ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر کوئی ان لیڈروں کی آؤ بھگت میں شہر کی سڑکوں کو خراب کردیں ۔ اس کے لیے ایک ضابطہ اور قانون مروج ہے ، ڈسپلین کی برقراری بھی ضروری ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT