شہر میں 1,2,5 روپے کے سکوں کی قلت ، چلر کے لئے عوام میں بحث و تکرار

دوکانداروں کو سو روپے کے سکوں کی خریدی کے لئے دس تا پندرہ روپے کمیشن اداکرنا پڑرہا ہے

دوکانداروں کو سو روپے کے سکوں کی خریدی کے لئے دس تا پندرہ روپے کمیشن اداکرنا پڑرہا ہے
حیدرآباد ۔9 مئی(سیاست نیوز ) ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب شہر حیدرآباد میں ہر شخص کو ایک ،دو اور پانچ روپے کے سکوں کی قلت کا احساس ہورہا ہے۔ حکومت اور ریزرو بینک کے ذریعہ تیار کردہ 1اور 2 روپے کے نوٹ بازار سے تقریباً غائب ہوچکے ہیں۔اب مسئلہ اِن سکوں کا ہے جو ریزرو بینک کی جانب سے تیار کئے جارہے ہیں۔حالانکہ آربی آئی نے کافی مقدار میں سکے تیار کئے ہیںاور ابھی بھی کررہے ہیں لیکن شہر میں سکو ںکی کافی قلت محسوس کی جارہی ہے۔ کرانے کی دوکان ہو یا سبزی فروش ہر کوئی سکوں کی قلت کی شکایت کررہے ہیں۔اس کے علاوہ روزانہ اے پی ایس آرٹی سی کی بسوں میں سفر کرنے ولے مسافرین بھی کنڈکٹرکو سکے فراہم نہیں کرپارہے ہیں جس کی وجہ سے کنڈکٹر اور مسافرین کے بیچ بحث و تکرار ہورہی ہے۔ معلو م ہوا ہے کہ دوکاندار ایک سو رپے کے سکوں کو حاصل کرنے کے لئے 10تا 15روپے کمیشن اداکررہے ہیں۔سکوں کا کاروبار کرنے والے افراد آربی آئی بینک سے قطار میں کھڑے ہوکر ہزاروں روپے کے نوٹوں کے عوض سکے حاصل کرتے ہیں، اور شہر کے مختلف تجارتی علاقوں میں جاکر سکوں کوکمیشن لے کر فروخت کرتے ہیں۔ایک دوکاندار نے بتایا کہ ان کو روزانہ پانچ سو روپے کے سکوں کی ضرورت ہوتی ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے وہ 50روپے کمیشن ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سکے نہ ہو تو کاروبار کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہوتی ہیںاور صارفین دوسری دوکان کی طرف راغب ہوتے ہیںجس کی وجہ سے کاروباری نقصا ن اٹھانا پڑتا ہے۔شہر کی عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سکوں کی قلت پر قابو پائیں اور سکوں کی کالا بازاری پرروک لگانے کے لئے ضروری اقدامات کریں ۔لوگوں نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ عوام کو در پیش اس سنگین مسئلہ کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عوام کے نقصان کو کسی حد تک بچایا جاسکے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT