Saturday , November 25 2017
Home / اضلاع کی خبریں / شہر نظام آباد کی مثالی ترقی کیلئے ہر ممکنہ اقدامات

شہر نظام آباد کی مثالی ترقی کیلئے ہر ممکنہ اقدامات

نظام آباد میں رکن پارلیمنٹ کے کویتا کی صحافیوں سے بات چیت
نظام آباد:24؍اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)رکن پارلیمنٹ شریمتی کے کویتا نے آج نظام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ شہر کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے مسلسل کوشاں ہیں اور نظام آباد شہر کو اسمارٹ سٹی کی حیثیت سے ترقی دینے کیلئے گذشتہ چند دنوں سے کوشش کی جارہی ہے مرکزی حکومت نے نظام آباد کو امرت سٹی کی حیثیت سے منتخب کرتے ہوئے احکامات جاری کئے اور امرت سٹی کی حیثیت سے منتخب ہونے پر نظام آباد کو ہر سال 20 کروڑ روپئے زائد طور پر منظور کئے جائیں گے اور اس سے نظام آباد کے ترقیاتی کام کے علاوہ پارک کے قیام بھی عمل میں لائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت میں انڈر گرائونڈ ڈرین کی تعمیر کیلئے جاری کردہ فنڈس کے کام 60تا 70 فیصد کام انجام دینے کی وجہ سے یہ کام ادھورے ہیں۔ ان کاموں کی تکمیل کیلئے کوشش کی جارہی ہے۔ انتخابات کے بعد شہر نظام آباد کو مثالی ترقی دینے کیلئے مسلسل کوشش کی وجہ سے مرکزی حکومت نے امرت سٹی کی حیثیت سے منتخب کیا ہے۔ آنے والے چند دنوں میں نظام آباد کی ترقی کو نمایاں طور پر انجام دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کی انجام دہی کیلئے گذشتہ کئی دنوں سے کوشش کی جارہی ہے اور یہ کام عنقریب میں مکمل کیا جائیگا اور میونسپل اجلاس میں اس پر قرار داد کے بعد ان کاموں کو جلداز جلد انجام دیا جائیگا۔ اس کے علاوہ رہائشی مکانات کے نمبرات کو بھی باقاعدہ طورپر ترتیب سے انجام دئے جائیں گے جس کی وجہ سے موجود ہ مکانات نمبرات کے بجائے نئے نمبرس ڈالے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سوچھ بھارت کی انجام دہی میں نظام آباد کو 82 واں مقام حاصل ہوا ہے انہوں نے سابق ریاستی وزیر مسٹر پی سدرشن ریڈی کی جانب سے پرانہیتا چیوڑلہ کے کاموں میں لاپرواہی برتنے اور رکن پارلیمنٹ کی جانب سے اقدامات نہ کئے جانے کے الزام کو مستر د کرتے ہوئے کہا کہ سدرشن ریڈی سینئر قائد کی حیثیت سے سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے بیان بازی کررہے ہیں جبکہ بحیثیت وزیر بھاری آبپاشی بالکنڈہ منڈل کے 13 دیہاتوں کو آبی سہولتوں سے محروم کیا۔ کاکتیہ کنال کے شگاف کو بند کرنے کی وجہ سے پانی کی سربراہی سے محروم ہونا پرا تھا ۔ ٹی آرایس اقتدار میں آنے کے بعد مقامی رکن اسمبلی پرشانت ریڈی سے مل کر ضلع کلکٹر سے مسلسل نمائندگی کے بعد کاکتیہ کنال سے دوبارہ 13 دیہاتوں کو پانی کی سربراہی کے کام انجام دئیے جارہے ہیں۔ انہوں نے پرانہیتا چیوڑلہ کے مرحلہ نمبر 20,21,22 کے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرکنڈہ منڈل کے پرانہیتا چیوڑلہ کے کاموں کی انجام دہی کیلئے محکمہ جنگلات کی اراضی کے حصول کو نہیں کیا ۔ بودھن منڈل میں کسانوں کی اراضیات کس طرح حاصل کی گئی یہ بخوبی واقف ہے۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو پرانہیتا چیوڑلہ کے ڈیزائن میں تبدیلی کے ذریعہ کسانوں کو مستقل طور پر آبی سہولتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ تمڑی ہٹی کے بجائے کالیشورم سے پانی حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ تمڑی ہٹی میں صرف 3تا 4 مہینے پانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ کالیشورم سے 360 دن پانی حاصل کرنے کی سہولتیں حاصل ہے جس کی وجہ سے پلان میں تبدیلی عمل میں لائی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کے دور میں گتہ داروں کو اپنی مرضی سے رکھا جاتا تھا کیونکہ اس میں یہ برابر کے حصہ دار تھے لیکن ٹی آرایس معاشی طور پر کمزور گتہ داروں کو کنٹراکٹ دینا نہیں چاہتی جس کی وجہ سے معاشی طور پر مستحکم گتہ داروں کو کام دئے جائیں گے تاکہ کاموں کی انجام دہی یقینی بنایا جاسکے ۔ آنے والے دو تین سالوں میں پرانہیتاچیوڑلہ کے ذریعہ ضلع کی عوام کو آبی سہولتیں حاصل ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دیہات۔ ہمارے رکن پارلیمنٹ کے تحت نظام آباد کے حلقہ کے تمام دیہاتوں کا دورہ کرنے کا عزم کرتے ہوئے جگتیال سے یہ پروگرام کو شروع کیا گیا ہے۔ آئندہ یہ پروگرام نظام آباد رورل یا بودھن میں انجام دیا جائیگا۔ اس موقع پر صدر ضلع ٹی آرایس ایگا گنگاریڈی،ارکان اسمبلی پرشانت ریڈی، ہنمنت شنڈے، اے رویندرریڈی، ایم ایل سی راجیشور رائو، قائد ٹی آرایس ایس اے علیم ، صدر ضلع اقلیتی سیل نوید اقبال کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT