Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر کو آلودہ کرنے والی صنعتوں کی منتقلی کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

شہر کو آلودہ کرنے والی صنعتوں کی منتقلی کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

کوکٹ پلی ، بالا نگر ، جیڈی میٹلہ ، اوپل کے تجارتی علاقوں کے لیے موثر منصوبہ بندی ناگزیر
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : شہر میں موجود آلودہ صنعتوں کو آوٹر رنگ روڈ (او آر آر ) سے باہر کرنے کا اعلان 2013 میں اس وقت کی حکومت نے کیا تھا لیکن پانچ سال گذر جانے کے باوجود اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا اور نہ ہی آلودگی میں اضافہ کرنے والی صنعتیں شہر سے باہر منتقل کی گئی اور نہ ہی آلودگی کی سطح میں کوئی کمی ہوئی ہے ۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی نئی حکومت نے آلودگی میں اضافہ کرنے والی صنعتوں کی زمرہ بندی کرتے ہوئے انہیں سرخ اور زعفرانی زمرہ میں تقسیم کیا ہے اور منصوبہ بنایا کہ انہیں او آر آر سے باہر کیا جائے گا لیکن حالیہ سروے کے بعد یہ حقائق واضح ہوچکے ہیں کہ آلودگی میں اضافہ کرنے والی صنعتیں جو کہ 1125 ہیں جنہیں سرخ اور زعفران زمرہ میں تقسیم کیا گیا ہے وہ ہنوز اپنی جگہ موجود ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن لمٹیڈ ( ٹی ایس آئی آئی سی ) نے جہاں آلودگی میں اضافہ کرنے والی صنعتوں کی تعداد 1000 سے زائد بتائی ہے وہیں مارچ 2013 میں آندھرا پردیش حکومت نے جی او ایم ایس نمبر 20 جاری کرتے ہوئے شہر کی آلودگی میں اضافہ کرنے والی صنعتوں کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا تھا لیکن حیدرآباد اور اس کے اطراف کے علاقوں میں فضائی آبی اور زمینی آلودگی میں اضافہ کرنے والی صنعتوں کے خلاف کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ ٹی ایس آئی سی سی کے نائب چیرمین اور منیجنگ ڈائرکٹر ای وی نرسمہا ریڈی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سنگاریڈی ، میدک اور وقار آباد میں تقریبا 100 صنعتیں ہیں جن میں کپڑا ، تیل ، لوہا کی صنعتیں موجود ہیں اور اگر اب شہر سے صنعتوں کو باہر کیا جائے گا تو اس کے لیے متبادل 9 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں آلودگی کی وجہ بننے والی صنعتوں کو دو ماہ کے اندرون شہر سے منتقل کردیا جاسکتا ہے کیوں کہ مطلوبہ انفراسٹرکچر جس میں سڑکیں اور برقی سربراہی بھی شامل ہے وہ پہلے سے دستیاب ہے ۔ شہر کے اطراف میں ایک سرسری جائزے کے بعد یہ اعداد و شمار مل جاتے ہیں کہ بولارم میں 117 ، بالا نگر میں 146 ، جیڈی میٹلہ میں 133 اور اپل میں 115 صنعتوں کے مقامات موجود ہیں جب کہ رہائشی اور تجارتی علاقوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کوکٹ پلی میں 108 ، جوبلی ہلز میں 127 ، پیراڈائز میں 112 ، چارمینار میں 122 اور عابڈس میں 106 مقامات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے ۔ دوسری جانب انڈسٹریل اسوسی ایشن نے کہا ہے کہ صنعتوں کو شہر کے حدود سے منتقل کرنا کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا کیوں کہ حکومت نے صنعتوں کے ارباب مجاز سے منتقلی کے متعلق کوئی واضح تبادلہ خیال نہیں کیا ہے ۔ اسوسی ایشن آف لیڈی انٹرپرینر شپ آف انڈیا کی صدر رما دیوی نے کہا کہ صنعتوں کو منتقل کرنے کی بجائے حکومت صنعتوں سے خارج ہونے والی فاضل اشیاء کی نکاسی کا موثر انتظام کرے جس سے شہر کی آلودگی کو قابو کیا جاسکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT