Tuesday , December 11 2018

شہر کی بینکوں سے رقومات نکالنے کیلئے طویل قطاریں

مجوزہ بل پر عوام میں سنسنی جاری، اطمینان دلانے بینک افسران کی کوششیں ناکام

حیدرآباد۔13ڈسمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے بینکو ںمیں عوام اپنے جمع رقومات کی نکالنے کیلئے قطاریں لگانے لگے ہیں اور بینک عہدیداروں کی جانب سے یومیہ 10,000 تا20,000 روپئے جاری کئے جا رہے ہیں جس کے سبب عوام میں مزید سنسنی پیدا ہونے لگی ہے اور کئی بینکوں سے اب تک کروڑہا روپئے نکالے جا چکے ہیں جس کے سبب بینک میں خدمات انجام دینے والے مینیجرس میں خوف و ہراس پیدا ہونے لگا ہے اور وہ اپنے گاہکوں کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اورپارلیمنٹ میں FDRIبل کو روشناس ہونے تک انتظار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ بیشتر بینک عہدیدار بھی اس بات کی طمانیت دینے سے قاصر ہیں کہ حکومت کی جانب سے مجوزہ قانون بینک صارفین کے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے کیونکہ خو دبینک ملازمین کی یونین اور تنظیموں کی جانب سے گاہکوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے بل میں ترمیم کا مطالبہ کیا جا رہاہے۔ حکومت ہند کی جانب سے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران روشناس کروائے جانے والے مجوزہ قانون کے سلسلہ میں بینک ملازمین کے احتجاج اور بل میں ترمیم کے مطالبہ کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ قانون بینک صارفین کے مفاد میں نہیں ہے۔ دو یوم قبل روزنامہ سیاست کے انکشاف کے بعد دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے بیشتر بینکوں میں گاہکوں کی طویل قطاریں دیکھی جانے لگی ہیں اور عوام اس بات پر احتجاج کر رہے ہیں کہ انہیں ان کی جانب سے جمع کردہ رقم واپس نہیں کی جا رہی ہے جو کہ ان کا حق ہے۔ بینک عہدیداروں کا کہنا ہے کہ لوگ نہ صرف سیونگ بینک کھاتوں سے رقومات نکال رہے ہیں بلکہ فکسڈ ڈپازٹس بھی واپس لئے جانے لگے ہیں جس کے سبب بینکوں کی حالت خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت ہند نے جو بل تیار کیاہے اس کے مطابق اگر بینک خسارہ کا شکار ہونے کی حالت میں پہنچ جاتے ہیں توایسی صورت میں سیونگ بینک کھاتوں میں جمع کردہ رقومات بھی بینک استعمال کی مجاز ہوجائیں گی اس اطلاع کے عام ہونے کے ساتھ ہی بینکوں میں جمع رقومات واپس نکالی جانے لگی جس کے نتیجہ میں شہر کے بیشتر اے ٹی ایم بھی خالی ہو چکے ہیں اور اے ٹی ایم میں بھی رقومات نہیں ڈالی جار ہی ہیں ۔بینکو ںمیں لگائی جانے والی طویل قطاروں کے باوجود مکمل مطلوبہ رقومات جاری نہ کئے جانے کے سبب عوام کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ بینکوں میں عہدیداروں کی جانب سے ورقیہ چسپاں کرتے ہوئے عوام سے اس بات کی اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ واٹس اپ کی خبروں پر اعتماد نہ کریں۔

TOPPOPULARRECENT