Saturday , November 18 2017
Home / Editorial News / شہر کی تاریخی عمارت

شہر کی تاریخی عمارت

یہ دور ارتقا بھی تنزل سے کم نہیں
تہذیب کا مذاق اڑانے لگے ہیں لوگ
شہر کی تاریخی عمارت
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ اپنی حکومت کی کارکردگی کے لئے کامیاب منزل کی سمت کا تعین کرنے کے بجائے شہر کے ثقافتی تاریخی ورثہ کو مٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ قدیم تاریخی دواخانہ عثمانہ کی عمارت کے انہدام کا منصوبہ ٹی آر ایس حکومت کی عقل کے عیار ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ تلنگانہ کی تاریخی میراث کو تحفظ دینے کے بجائے نت نئے منصوبے بنانے سے مسائل پیدا ہوں گے۔ اگر چیف منسٹر کو غلطیاں کرنے سے روکا نہیں گیا تو عوام کے لئے ایک کے بعد دوسرا بحران جنم لینا یقینی ہوجائے گا۔ بعض وقت حکمرانوں کی ناتجربہ کاری خرابیاں پیدا کرتی ہے اس لئے تاریخی کرداروں کا مطالعہ ان کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ ریاست تلنگانہ کے حصول کا مقصد اس شہر کی تہذیب و تمدن کی حفاظت کے علاوہ حیدرآباد کے ثقافتی ورثہ تاریخی عمارتوں کی عظمت رفتہ کی بحالی بھی تھا کیوں کہ تلنگانہ میں آندھرائی قائدین نے تاریخی ورثہ کے ساتھ جس طرح کی لاپرواہی کی تھی اس کا ازالہ ہوسکے۔ اب ازخود تلنگانہ کے سپوت ریاست اور شہر کی تاریخ اور میراث کو نقصان پہونچانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ دواخانہ عثمانیہ کو منہدم کرنے کے بجائے اس کی تزئین نو اور مرمت و داغ دوزی کے ذریعہ ازسرنو عظمت رفتہ کی بحالی پر توجہ دینا چاہئے۔ تجارتی اغراض کے تحت جب حکومت ریاست و شہر کی دیگر تاریخی عمارتوں جیسے فلک نما پیالس، چو محلہ پیالس کو ترقی دے سکتی ہے تو دیگر تاریخی عمارتیں بھی ایسی ہی ترقی کی مستحق ہیں۔ عثمانیہ دواخانہ ساری دنیا میں عالمی شہرت کا حامل ہے۔ 150 سال قدیم اس دواخانہ کو موسیٰ ندی کے کنارے 26.5 ایکر اراضی پر تعمیر کیا گیا تھا۔ عثمانیہ میڈیکل کالج ایک ایسی دانش گاہ ہے جس میں تقریباً 2000 طلباء اپنی میڈیکل تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں سالانہ 52000 مریض اِن پیشنٹ کے طور پر جبکہ 8 لاکھ مریض آؤٹ پیشنٹ کے طور پر علاج و معالجہ کے لئے رجوع ہوتے ہیں۔ دواخانہ میں بسترں کی تعداد 400 تا 1400 تک بڑھادی گئی ہے۔ دواخانہ کی عمارت کی خستہ حالی کی وجہ حکومتوں اور نظم و نسق کی عدم توجہی ہے۔ اس عمارت میں 11 بڑے بلاکس ہیں جو استعمال کے قابل نہیں رہے۔ آئی پی بلاک کو تاریخی ہیرٹیج عمارت قرار دیا گیا۔ لیکن اس کا انفراسٹرکچر دن بہ دن ناکارہ اور فرسودہ ہوتا گیا ہے۔ حکومت نے قبل ازیں دواخانہ کی ترقی اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے آلۂ جات کی خریداری کے لئے 72 کروڑ روپئے خرچ کرنے اور عمارت کی مرمت کے لئے 28 کروڑ روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ دواخانہ کے عملہ کی تعداد بڑھانے اور سکیوریٹی، صاف صفائی کرنے والوں، نرسوں اور میڈیکل عملہ کے تقررات کا بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ عمارت میں صفائی کے ناقص انتظامات اور دیکھ بھال میں لاپرواہی کے باعث یہ تاریخی عمارت کوڑا دان اور گندگی کا مرکز بن گئی ہے۔ اس کی وجہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے فنڈس کی اجرائی میں تاخیر یا کوتاہی ہے۔ 2010 ء میں حکومت نے دواخانہ عثمانیہ کی ترقی کے لئے 200 کروڑ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس میں تاخیر سے کام لیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں عمارت کا بیشتر حصہ بوسیدہ ہوگیا اور یہاں خدمت انجام دینے والے ڈاکٹرس، نرسوں اور مریضوں میں خوف پیدا ہونے لگا کہ عمارت کی چھت کسی بھی وقت گرسکتی ہے۔ دواخانہ کے اِن پیشنٹ بلاک میں 850 بستر ہیں۔ اس کے علاوہ جنرل میڈیسن کے ہاوزس، جنرل سرجری، سرجیکل گیاسٹرو انٹرولوجی، نیورولوجی شعبے بھی کام کرتے ہیں۔ دواخانہ کی دیکھ بھال روزانہ کی اساس پر نہ ہونے سے تاریخی عمارت مریضوں کے لئے غیر محفوظ بن گئی۔ حضور نظام کے دور کی ستائش کرنے والے چیف منسٹر کو جو خود بھی ’نظام‘ کا لقب پسند کرنے کی جانب مائل نظر آتے ہیں تو تاریخی ورثہ کا تحفظ کرنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ حضور نظام نے جب لندن کا سفر کیا تھا وہاں دریائے انفاس کے کنارے عمارت کو دیکھ کر اس طرز پر موسیٰ ندی کے کنارے دواخانہ عثمانیہ کی شکل میں ایک عظیم الشان عمارت تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا آج اس 1910 ء کی تعمیر کردہ عمارت کو تلنگانہ کے سپوتوں سے ہی خطرہ پیدا ہورہا ہے تو تاریخی ورثہ کے تحفظ میں مصروف تنظیموں اور شخصیتوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ نیم حکماء خطرات جاں کے مصداق موجودہ نیم حکمرانوں کی کی نبض شناسی عوام کی ذمہ داری ہے۔
امریکہ کی بدنام زمانہ جیل
امریکہ کی بدنام زمانہ جیل گوانتاناموبے کو بند کرنے کا منصوبہ گزشتہ 8 سال سے لیت و لعل کا شکار ہے۔ صدر امریکہ بارک اوباما نے اپنے پہلے صدارتی انتخابات 2008 ء کے بعد اس خطرناک جیل کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا مگر تاحال اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ اس متنازعہ جیل میں غیر انسانی اذیتوں کے علاوہ قیدیوں کے ساتھ ہونے والے دلسوز واقعات پر ساری دنیا مغموم رہی ہے۔ ابو غریب جیل عراق میں بھی امریکی سپاہیوں کی غیر انسانی حرکتوں اور اذیتوں کی داستانیں عام انسانوں کے رونگھٹے کھڑی کردیتی ہیں۔ انسانی حقوق کی علمبرداری کرنے والے ملکوں کو امریکہ کی نام نہاد جیلوں میں ہونے والی اذیت ناکیوں پر آواز اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اس جیل کو سابق صدر جارج بش نے 2002 ء میں قائم کیا تھا۔ سال 2003 ء میں قیدیوں کی تعداد 684 تھی جنھیں دیگر مقامات کو منتقل کیا گیا اب یہاں 122 قیدی باقی رہ گئے ہیں۔ سال 2009 ء میں صدر بارک اوباما نے اس جیل کو ایک سال کے اندر ہی بند کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن جیل میں قیدیوں کے ساتھ انتہائی غیر انسانی سلوک روا رکھنے کے دفعات کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ تفتیش کے نام پر ایسے خطرناک طریقہ استعمال کئے گئے جس پر ساری دنیا کا انسانی دل دہل گیا تھا۔ اس جیل میں ایسے کی بے قصور قیدی بھی ہیں جنھیں غلطی سے محروس رکھا گیا ہے۔ ان میں موریطانیہ کے محمد اولد صلاحی بھی ہیں جو 13 سال سے محروس ہیں۔ ان کی تحریر کردہ کتاب کو شائع کرانے کی کوششوں میں کامیابی ملی ہے مگر اس کتاب سے امریکی سپاہیوں کی زیادتیوں کے تذکرہ کو حذف کردیا گیا جو اظہار خیال کی آزادی کے مغائر ہے۔ کتاب میں گوانتاناموبے جیل میں ہونے والے اذیت ناک واقعات کو سچائی کے ساتھ پیش کیا گیا مگر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکہ کی زیادتیوں اور غیر انسانی پالیسیوں کو آشکار کرنے سے روکنے کی کوششوں کے خلاف آواز اٹھانے کا اپنا فرض فراموش کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT