Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر کی ترقی کیلئے 100 دن کے منصوبہ پر عمل آوری میں ناکامی

شہر کی ترقی کیلئے 100 دن کے منصوبہ پر عمل آوری میں ناکامی

اسمبلی میں وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کا اعتراف ۔ منصوبہ حکومت نے خود تیار کیا تھا کسی جماعت کی نمائندگی پر نہیں
حیدرآباد۔26 ڈسمبر (سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما رائو نے کہا کہ حیدرآباد کو استنبول شہر کی طرح ترقی دینے حکومت کا منصوبہ برقرار ہے تاہم اس کیلئے مزید پانچ سال کا عرصہ درکار ہوگا اور ترقیاتی اقدامات کے لئے 1000  کروڑ روپئے کی ضرورت پڑے گی۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شہر کی ترقی کے مسئلہ پر ارکان کے ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ کسی بھی شہر کو عالمی شہر کا درجہ دینا راتوں رات ممکن نہیں ہے۔ حکومت نے حیدرآباد کی ترقی کے جو وعدے کئے ہیں، اس پر عمل آوری میں سنجیدہ ہے۔ عوام کی سہولت اور بنیادی خدمات میں بہتری کیلئے حکومت نے 100 دن کا ترقیاتی منصوبہ تیار کیا ہے جس کے مطابق کئی ترقیاتی اقدامات کئے گئے اور مزید کئی باقی ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ 100 دن کے ترقیاتی منصوبے پر مقررہ مدت میں عمل آوری نہیں کی جاسکی جس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ انہوں نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو حکومت کی جانب سے فنڈس فراہم نہ کرنے اور کارپوریشن کے دیوالیہ ہونے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ حکومت شہر کی ترقی کیلئے مجلس بلدیہ سے ہر ممکن تعاون کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بہتر خدمت کیلئے 100 دن کا ترقیاتی منصوبہ حکومت نے اپنے طور پر تیار کیا ہے۔ کسی سیاسی جماعت یا عوامی تنظیم کی جانب سے اس کا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ حکومت نے اپنے طور پر یہ منصوبہ تیار کیا ہے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ شہر کو ساف ستھرا بنانے کچرے کی نکاسی اور 1100 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی جنہیں کچرے سے پاک مقامات میں تبدیل کیا جائے گا۔ ان علاقوں میں کچرا ڈالنے کے سبب حفظان صحت کے مسائل پیدا ہورہے تھے لہٰذا حکومت نے ان مقامات کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ ’مائی جی ایچ ایم سی‘ کے نام سے ایپ تیار کیا گیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے قیام کے بعد سے کسی حکومت نے سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر اس قدر بجٹ خرچ نہیں کیا جتنا گزشتہ دو برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سڑکوں کی صورتحال کو بہتر بنانے سیوریج سسٹم کو عصری بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے کیونکہ زیادہ تر مسائل سیوریج سسٹم کے سبب پیدا ہورہے ہیں۔ حکومت شہر میں 1000 عوامی بیت الخلاء تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور اس سلسلہ میں شہر میں واقع تمام پٹرول پمپس کے انتظامیہ سے بات چیت کی جارہی ہے۔ ہر پٹرول پمپ پر عوامی بیت الخلا لازمی طور پر قائم کیا جائیگا۔ اس سلسلہ میں بہت جلد ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ حیدرآباد میں 50 بس بیس اور 13 ماڈرن مارکٹ یارڈس قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے آئی ٹی کاریڈار میں 200 کروڑ روپئے کے قرض سے وائٹ ٹیاپنگ روڈس کی تعمیر کیلئے ٹنڈرس طلب کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں 463 بی ٹی روڈس کی تعمیر کا کام مکمل ہوچکا ہے اور 25 سڑکوں کا کام جاری ہے۔ 317 نالوں کی صفائی کا کام مکمل کرلیا گیا اس کے علاوہ 100 عوامی ٹائلٹس تعمیر کئے گئے۔ 21 قبرستانوں کے کام مکمل ہوچکے ہیں اور 16 کے کام جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض ترقیاتی کام عدالتوں میں مقدمات کے سبب زیر التوا ہیں۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ سوچھ حیدرآباد مہم کے تحت 2000 آٹو ٹپرس منظور کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ریاست کا اکنامک انجن ہے اور حکومت کو شہر کی ترقی میں کافی دلچسپی ہے۔          ( باقی سلسلہ صفحہ 8 پر )

TOPPOPULARRECENT