شہر کی خوبصورتی کے منصوبوں پر عمل آوری میں بلدیہ کی ناکامی

حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : شہر کی خوبصورتی کے لیے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کئی منصوبے تیار کئے جاتے ہیں لیکن اس پر عمل آوری میں مجلس بلدیہ ناکام ہوتی نظر آتی ہے ۔ پرانے شہر کا کوئی پراجکٹ ہو اسے فوری طور پر مکمل کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے یا پھر اسے تعطل کا شکار بنادیا جاتا اور ایک منزل پر پہنچ کر پراجکٹ سے دس

حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : شہر کی خوبصورتی کے لیے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کئی منصوبے تیار کئے جاتے ہیں لیکن اس پر عمل آوری میں مجلس بلدیہ ناکام ہوتی نظر آتی ہے ۔ پرانے شہر کا کوئی پراجکٹ ہو اسے فوری طور پر مکمل کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے یا پھر اسے تعطل کا شکار بنادیا جاتا اور ایک منزل پر پہنچ کر پراجکٹ سے دستبرداری کا اعلان ہوجاتا ہے ۔ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کا منصوبہ ہو یا پھر چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ ہو ان پراجکٹس کی تکمیل کے معاملہ میں ہی نہیں بلکہ دیگر منصوبوں پر عمل آوری کے معاملات میں بھی پرانے شہر کے پراجکٹس کے متعلق محکمہ جات کی جانب سے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی جاتی جس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں ۔ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے ذیلی پراجکٹس میں چارمینار کے اطراف و اکناف کے علاقوں بالخصوص لاڈ بازار کو خوبصورت ہیرٹیج بازار کے طرز پر ترقی دینے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا تھا اور اس خصوص میں کئی اقدامات کئے گئے تھے لیکن صورتحال آج بھی جوں کی توں برقرار ہے ۔ لاڈ بازار کی دکانات پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے یکساں سائن بورڈ کی تنصیب کا منصوبہ تیار کیا تھا جس میں اردو ، انگریزی اور تلگو زبان میں دکانات کے نام تحریر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ 2006 میں تیار کئے گئے اس منصوبہ کے سلسلہ میں مجلس بلدیہ نے مختلف مشاورتی کمپنیوں سے تبادلہ خیال اور تجاویز کی وصولی کے بعد ایک خانگی کمپنی کو بھاری رقم ادا کرکے بورڈ ڈیزائن بھی کروایا لیکن اس سائن بورڈ کی تیاری کا عمل تنصیب کے عمل سے ہی تعطل کا شکار بنا ہوا ہے ۔ بلدیہ حیدرآباد نے یکساں نوعیت کے سائن بورڈ تیار کرتے ہوئے ان پر چارمینار کا لوگو کندہ کروایا تھا

اور ان سائن بورڈس کی تنصیب کے لیے لاڈ بازار کے مقامی تاجرین سے بھی مشاورت کرلی گئی تھی لیکن یہ منصوبہ 2006 کے بعد سے جوں کا توں ہے اس پر نہ عمل آوری کی جارہی ہے اور نہ ہی یہ کہا جارہا ہے کہ منصوبہ سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے ۔ لاڈ بازار کے تاجرین کی جانب سے رضامندی کے اظہار کے بعد ہی سائن بورڈ کے ڈیزائن کو منظوری دی گئی تھی اور اس پراجکٹ کی راست نگرانی چیف سٹی پلانر کو تفویض کی گئی تھی لیکن یہ پراجکٹ بھی دیگر پراجکٹس کی طرح تعطل کا شکار بنا ہوا ہے اور اس سلسلہ میں نہ کوئی دریافت کیا جارہا ہے اور نہ ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے کوئی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ گلزار حوض سے پتھر گٹی کی سمت جانے والی سڑک پر دونوں جانب موجود کمانوں پر بھی یکساں طرز کے سائن بورڈ آویزاں کرتے ہوئے پتھر گٹی کی خوبصورتی کو دوبالا کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا تھا کہ اپنی مرضی کے مطابق بنائے گئے سائن بورڈ ہٹا دئیے جائیں گے اور یکساں نوعیت کے سائن بورڈ کی تنصیب کو لازمی قرار دے دیا جائے گا لیکن اس علاقہ میں بھی بعض کاروباری اداروں کے سائن بورڈ تبدیل کئے گئے لیکن مجموعی اعتبار سے پتھر گٹی میں بھی یہ ترقیاتی مرحلے طئے نہیں کیا گیا جس کے تحت پرانے شہر کے اس اہم و قیمتی بازاروں کی خوبصورتی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ اور ان بازاروں کے طرز تعمیر اور ان کی تاریخی اہمیت کے ذریعہ انہیں ہیرٹیج کی فہرست میں شامل کروانے کی کوشش کی جاسکتی ہے جس سے نہ صرف حیدرآباد میں اس خوبصورتی کی سراہنا کی جائے گی بلکہ سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے یہ بازار بین الاقوامی سطح پر شناخت بنا سکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT