Wednesday , December 19 2018

شہر کی خوبصورت ترین مساجد میں ایک اور مسجد کا اضافہ

آسٹریلیائی سنگ مرمر سے تعمیر، مسجد میں 4,000 مصلیوں کی گنجائش ، مسجد کو آباد کرنا ملت کی ذمہ داری

آسٹریلیائی سنگ مرمر سے تعمیر، مسجد میں 4,000 مصلیوں کی گنجائش ، مسجد کو آباد کرنا ملت کی ذمہ داری
حیدرآباد ۔ 6 ڈسمبر (ابوایمل) آج جب قوم بابری مسجد شہادت کی 22 ویں برسی منا رہی ہے اور ہر طرف ان عزائم کا اظہار کیا جارہا ہے کہ مسلمان بابری مسجد سے ہرگز دستبردار نہیں ہوںگے کیونکہ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا وہیں ۔ شیورام پلی میں واقع مرحوم حمیدالدین عاقل حسامی کی نگرانی میں 1976ء میں حضرت علامہ محمد حسام الدین فاضل کی یاد میں قائم کئے گئے جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد کے احاطہ میں اس مسجد کو تعمیر کیا گیا ہے جس کا سنگ بنیاد 1990ء میں امام حرم عبدالرحمن شیخ السدیس کے مبارک ہاتھوں سے رکھا گیا تھا۔ مسجد ہذا کی تعمیر میں ملت کے چند مالدار اصحاب خیر کا تعاون شامل ہے۔ اس کی خوبی یہ ہیکہ یہ سطح زمین سے 70 فیٹ اونچی اور 190 فیٹ چوڑی ہے جس کے اسٹرکچر ڈیزائنر مرحوم ولی قادری اور آرکیٹکٹ حیدر علی ہیں۔ یہاں بیک وقت 4000 مصلیوں کی گنجائش ہے۔ مسجد میں جملہ 5 دروازے ہیں اور ہر دروازہ کی بلندی 20 فیٹ ہے اور 10 کھڑکیاں بھی اس مسجد کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ جب مسجد کے ذمہ داروں سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ تعمیر کیلئے سنگ مرمر راجستھان اور آسٹریلیا سے درآمد کیا گیا۔ مسجد کے چار گنبدان ہیں۔ تین چھوٹے گنبد ہیں اور ایک وسطی گنبد ہے جو انتہائی دیدہ زیب انداز میں تعمیر کئے گئے ہیں اور کسی قدر فاصلہ سے مسجد پر نظر ڈالی جائے تو یہ مزید خوبصورت نظر آتے ہیں۔ مسجد میں داخلہ کیلئے دو طرفہ خوبصورت سیڑھیوں والا راستہ ہے۔ مسجد کے اطراف و اکناف سبزہ زار بھی ہے ۔ذمہ داروں نے بتایا کہ مسجد کا کام 90 فیصد مکمل ہوچکا ہے اور مابقی کام تین یا چار ماہ کے دوران مکمل ہوجائے گا کیونکہ تعمیر کا کام شبانہ روز جاری ہے۔ بہادر پورہ کے زو پارک سے جانے والا سیدھا راستہ (بنگلور ہائی وے) سے پولیس اکیڈیمی اور اس کے بعد شیورام پلی پہنچنے پر جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد تک بہ آسانی رسائی ہوسکتی ہے۔ جب وہاں کے ذمہ داروں سے مسجد کے نام کے بارے میں استفسار کیا گیا تو بتایا گیا کہ مسجد کو کسی سے موسوم کیا جائے اس کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے ہر شہر میں خوبصورت مساجد کی کوئی کمی نہیں ہے۔ شہر حیدرآباد کی مکہ مسجد، ممبئی اور دہلی کی جامع مسجد، بھوپال کی تاج المساجد ایسی تاریخی مساجد ہیں جو فن تعمیر کا نادر نمونہ ہیں۔ لہٰذا ہمیں جہاں بابری مسجد کی بازیابی کیلئے دعائیں کرنی چاہئے وہیں نئی تعمیر شدہ مساجد کو آباد کرنے کی سعی بھی کرنی چاہئے کیونکہ جس طرح اینٹ، سمنٹ اور ریتی کے استعمال سے مکان کو بنایا جاسکتا ہے لیکن مکینوں کے بغیر اسے گھر نہیں کہا جاسکتا بالکل اسی طرح مساجد بھی اللہ کے گھر ہیں لیکن انہیں آباد کرنا اللہ کے حقیر بندوں (مصلیوں) کی ذمہ داری ہے۔ توقع ہیکہ مسجد ہذا میں بھی مصلیوں کی اتنی تعداد ہوگی جتنی کہ گنجائش رکھی گئی ہے۔ ویسے رمضان المبارک اور عیدین کے موقع پر تو وسیع سے وسیع مساجد بھی اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کرتی نظر آتی ہیں۔ دعا ہیکہ اللہ کے اس نئے گھر کو کسی ایسی شخصیت سے موسوم کیا جائے جو اس کا واقعتاً مستحق ہو اور ان لوگوں کے حق میں دعائے خیر کی جائے جنہوں نے بالراست یا بالواسطہ طور پر مسجد کی تعمیر میں تعاون کیا ہو۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT