Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر کی مساجد سے صباحیہ دینی مدارس کا رواج تقریباً ختم

شہر کی مساجد سے صباحیہ دینی مدارس کا رواج تقریباً ختم

حیدرآباد ۔ 4 ۔ جون : ( نمائندہ خصوصی ) : ہمارے شہر حیدرآباد و فرخندہ بنیاد اور اس کے اطراف واکناف میں ہزاروں مساجد ہیں ۔ ان میں بعض مساجد کو اللہ کے بندوں نے اس خوبصورت انداز میں تعمیر کروایا اور سجایا کہ دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں ۔ ہمارے شہر کی مساجد کی بلند و بالا میناروں سے گونجتی اذانیں فضاء میں ایک پر نور ماحول پیدا کرتے ہوئ

حیدرآباد ۔ 4 ۔ جون : ( نمائندہ خصوصی ) : ہمارے شہر حیدرآباد و فرخندہ بنیاد اور اس کے اطراف واکناف میں ہزاروں مساجد ہیں ۔ ان میں بعض مساجد کو اللہ کے بندوں نے اس خوبصورت انداز میں تعمیر کروایا اور سجایا کہ دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں ۔ ہمارے شہر کی مساجد کی بلند و بالا میناروں سے گونجتی اذانیں فضاء میں ایک پر نور ماحول پیدا کرتے ہوئے رحمت و برکت کا باعث بنتی ہیں۔ ویسے بھی شہر حیدرآباد کو سارے ہندوستان میں مسجدوں اور میناروں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ ہمارے شہر کی مساجد کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ہر مسجد میں صباحیہ مدارس ہوا کرتے تھے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تقریبا مساجد میں صباحیہ مدارس کا رواج ختم ہوگیا ہے ۔ 10 تا 20 سال قبل بھی نماز فجر کے ساتھ ہی مساجد سے چھوٹے چھوٹے بچے بچیوں کی جانب سے قرآن مجید کی تلاوت ، سورتیں اور احادیث رسول ﷺ اور پنجم کلمے یاد کرنے کی بلند آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

وہ آوازیں اس قدر پاکیزہ اور دل میں گھر کرنے والی ہوا کرتی تھیں کہ مسلمان تو مسلمان کچھ غیر مسلم بھی کچھ دیر وہاں ٹھہر کر ان آوازوں کو سن لیتے ۔ یہاں تک کہ مساجد کے قریب سے گذرنے والوں کو کئی چھوٹی سورتیں اور احادیث رسول ازبر ہوجاتی تھیں ۔ بے شمار لوگوں نے راقم الحروف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 10 سال قبل تک بھی نماز فجر کے ساتھ ہی مساجد سے بچوں کے تلاوت قرآن پاک اور احادیث پڑھنے کی مبارک آوازیں آیا کرتی تھیں ۔ مسجد کے باہر ٹھہرے لوگ ان احادیث کو ازبر کرلیا کرتے تھے لیکن شہر کی مساجد سے صباحیہ مدرسوں کا رواج ہی ختم ہوگیا ہے ۔ ماں باپ اپنے بچوں کو گھر پر ہی کسی مولوی صاحب یا مولانا کے ذریعہ ٹیوشن پڑھانے کو ترجیح دینے لگے ہیں اور بعض موقعوں پر تو ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ دولت مند والدین قرآن مجید پڑھانے کے لیے اپنے بچوں کو صباحیہ مدرسوں میں بھیجنے ایک قسم کا عار محسوس کرتے ہیں۔ ہم نے اس سلسلہ میں شہر کے ممتاز عالم دین اور جامعہ عائشہ نسواں کے ناظم حافظ محمد خواجہ نذیر الدین سبیلی سے بات کی ۔ انہوں نے صباحیہ مدرسوں کے رواج کے خاتمہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہر مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ ہوا کرتا تھا جس میں اطراف و اکناف رہنے والے بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جاتا تھا ۔ بچوں کو چالیس احادیث ، سورتیں اور کلمے یاد دلائے جاتے تھے ان مدرسوں میں تعلیم بالغان کا بھی انتظام ہوا کرتا تھا ۔ صباحیہ مدرسہ کی یہ خوبی ہوا کرتی تھی کہ وہاں بچے طریقہ نماز اچھی طرح سیکھ لیتے ، تجوید کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگتے سب سے اہم بات یہ ہے کہ صباحیہ یا مسائیہ مدرسوں میں آنے والے بچوں میں دین کی محبت پیدا ہوتی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد خواجہ نذیر الدین سبیلی نے بتایا کہ مساجد میں صباحیہ مدرسوں کا احیاء ہونا چاہئے ۔ کم از کم آدھے گھنٹے کی تعلیم ان مدرسوں میں ہی دی جائے ۔ جس سے بچوں میں مسجدوں اور دینی تعلیم سے محبت بڑھے گی ۔ مولانا نے بالکل صحیح کہا ہے کہ اگر صباحیہ مدرسوں کا احیاء ہوتا ہے تو اس سے نماز فجر میں مسجدیں بھر جائیں گی ۔ ساتھ ہی اسکول جانے والے بچوں اور ان کے سرپرستوں میں علی الصبح بیدار ہونے کا جذبہ پیدا ہوگا ۔ اگر سرپرست یہ طئے کرلیں کہ کم از کم ایک گھنٹہ بچوں کو ہر حال میں صباحیہ مدرسہ بھیجنا ہے تو پھر یقینا بچوں کی ذہنی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا کیوں کہ دینی علم سے انسان کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ادارہ انوار المدارس کے ناظم محمد شریف احمد مظاہری القاسمی کے مطابق شہر کی مساجد میں صباحیہ مدارس کا رواج ایک طرح سے ختم ہوگیا ہے ۔ نماز فجر کے ساتھ ہی امام صاحب بچوں کو قرآن پڑھانا شروع کردیتے ۔ ان کے اسباق سنا کرتے تھے لیکن آج کل ہمارے آئمہ کو سلام پھیرتے ہی عربی ٹیوشن پڑھانے کے لیے باہر جانے کی فکر رہتی ہے ۔ ان کے خیال میں اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی کے باعث بھی صباحیہ مدرسوں پر اثر پڑا ہے ۔ دوسرے مالی منفعت کے لیے کئی اسکولوں نے دینی تعلیم کی فراہمی کے دعوے کئے جس کا اثر صباحیہ مدارس پر پڑا ہے ۔ مالدار سرپرست بھی صباحیہ مدارس کے رواج کو متاثر کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔ اس کے علاوہ ٹی وی کی لعنت کے نتیجہ میں رات دیر گئے سونا اور صبح جلد بیدار نہ ہونے کی عادت نے بھی صباحیہ مدارس کو متاثر کیا ہے ۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ والدین علی الصبح اپنے بچوں کو بیدار کر کے انہیں وضو کراتے ٹوپی پہنا کر مساجد روانہ کرتے تھے ۔

صبح کی اولین ساعتوں میں بچے بچیوں کی کثیر تعداد اپنے ہاتھوں میں نورانی قاعدہ ، چہل حدیث ، مسنون دعاؤں کی کتابوں کے علاوہ عم پارہ ، یسرنالقرآن اور قرآن مجید تھامے مساجد کی جانب دکھائی دیتے تھے ۔ مولانا انعام الحسن کے مطابق صباحیہ مدرسوں کا احیاء وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ مادہ پرستی کے اس دور میں صباحیہ مدرسے اس لیے ضروری ہیں کہ مساجد اور مدرسہ مسلمانوں کو دین سے قریب کرتے ہیں اگر بچے مساجد جانا شروع کردیں تو ان میں دین اور حصول علم کا شوق خود بخود پیدا ہوگا ویسے بھی ہماری مساجد علمی مراکز ہوا کرتی تھیں ۔ مسجد نبویؐ اس کی سب سے روشن مثال ہے جہاں صحابہؓ ، علم حاصل کیا کرتے تھے ۔ آج شہر میں رات دیر گئے شادیوں اور بے ہنگم تقاریب کے باعث بھی بچے علی الصبح بیدار نہیں ہوتے ۔ ماں باپ اور بچوں کو دنیاوی علم کی تو فکر ہے لیکن دینی علم حاصل کرنے کی کوئی فکر نہیں ۔ شہر میں بعض مقامات پر تو بعض مفاد پرستوں نے صباحیہ مدارس کو جان بوجھ کر بند کروایا ۔ بہر حال ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر کی ہر مسجد میں صباحیہ مدارس کا احیاء ہو اور محلوں و گلیوں میں بچوں کے قرآن مجید اور احادیث رسولؐ پڑھنے کی آوازیں سنائی دیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT