Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر کی 196 مساجد کیلئے 93 لاکھ روپئے کی گرانٹ اِن ایڈ جاری

شہر کی 196 مساجد کیلئے 93 لاکھ روپئے کی گرانٹ اِن ایڈ جاری

ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر داخلہ نے چیکس تقسیم کئے۔حج ہاوز میں تقریب،رمضان سے قبل تعمیری کام مکمل کرنے کا مشورہ

حیدرآباد۔/17مارچ، ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کی 196 مساجد کیلئے گرانٹ اِن ایڈ کی پہلی قسط کے طور پر آج 93 لاکھ 61 ہزار750 روپئے جاری کئے گئے۔ مساجد کی تعمیر و مرمت اور تزئین کی اسکیم کے تحت یہ رقم جاری کی گئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے حج ہاوز میں منعقدہ تقریب میں مساجد کمیٹیوں کے ذمہ داروں کو یہ چیک حوالے کئے۔ اس رقم سے تعمیری کام جیسے چھت کی مرمت، وائیٹ واش، وضو خانے، باتھ روم کی تعمیر، الیکٹریکل ریپیر اور ضروری آلات کی تبدیلی کے کام انجام دیئے جائیں گے۔ کلکٹر حیدرآباد ڈاکٹر یوگیتا رانا نے چیکس کی تقسیم کے سلسلہ میں تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے علاوہ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی، حکومت کے مشیر برائے اقلیتی اُمور اے کے خاں، صدرنشین وقف بورڈ و رکن قانون ساز کونسل محمد سلیم، ارکان مقننہ جی کشن ریڈی، جعفر حسین معراج، معظم خاں، پاشاہ قادری، ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین، صدر نشین اقلیتی فینانس کارپوریشن اکبر حسین، صدر نشین حج کمیٹی مسیح اللہ خاں، ایکزیکیٹو آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ منان فاروقی، رکن حج کمیٹی ایم اے وحید اور دوسروں نے شرکت کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1948ء انضمام حیدرآباد کے بعد پہلی مرتبہ تلنگانہ میں تمام طبقات کے ساتھ انصاف کیا جارہا ہے۔ آندھرائی حکمرانوں نے مساجد کیلئے گرانٹ اِن ایڈ کی اجرائی کا کام انجام نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ گرانٹ کی پہلی قسط سے کام مکمل ہوتے ہی دوسری قسط کی رقم جاری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے سی آر کی زیر قیادت جدوجہد سے حاصل کی گئی ہے۔ آندھرائی حکمرانوں نے تلنگانہ سے ناانصافی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی لیکن ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد تمام طبقات کی یکساں ترقی کے سنہرے دور کا آغاز ہوا ہے۔ محمود علی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زبردست ستائش کی اور کہا کہ تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے انہوں نے توجہ مرکوزکی ہے۔ چیف منسٹر کا یہ احساس ہے کہ مسلمان جو کبھی حکمراں تھے آج ایس سی، ایس ٹی کی طرح پسماندہ ہوچکے ہیں، تعلیم اور زبان کو مٹا کر قوموں کو پسماندہ کیا جاسکتا ہے اور یہی سب کچھ مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا۔ کے سی آر نے تعلیم اور اردو زبان کی ترقی کو ترجیح دی ہے۔ اقلیتوںکیلئے 206 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے۔ انہوں نے مساجد کمیٹیوں کو مشورہ دیا کہ وہ رمضان المبارک سے قبل تمام انتظامات مکمل کرلیں۔ تلنگانہ کے عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں کے سی آر جیسا چیف منسٹر ملا ہے جو مندراور مسجد کو مساوی سمجھتے ہیں مندروں کے ساتھ ساتھ مساجد کیلئے بھی گرانٹ اِن ایڈ منظور کی گئی۔ انہوں نے اے کے خاں کو مشورہ دیا کہ رمضان المبارک میں غریبوں میں تقسیم کئے جانے والے کپڑوں کے معیار پر خصوصی توجہ دیں اور ابھی سے کپڑوں کی کمپنیوں سے بات چیت کے ذریعہ معیاری کپڑوں کو منتخب کریں تاکہ کم سے کم دو سال تک یہ کپڑے چل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ میں اضافہ کیا جائے گا۔ محمود علی نے کہا کہ ترقی اور فلاحی اقدامات میں ملک بھر میں تلنگانہ مثالی ریاست ہے۔ کے سی آر کا کارنامہ ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والے باہم شیروشکر اور پیار و محبت سے زندگی بسر کررہے ہیں اور قومی یکجہتی کی تازہ مثال آج کا اسٹیج ہے جس پر کشن ریڈی اور نرسمہا ریڈی کے ساتھ مجلس کے اراکین اسمبلی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے معاملہ میں اپوزیشن اور برسراقتدار پارٹی ایک رائے رکھتے ہیں۔ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر سیکولر قائد ہیں اور تلنگانہ سیکولر اسٹیٹ ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ انصاف کیا جارہا ہے۔ کے سی آر کی حکمرانی میں تمام طبقات کے ساتھ یکساں انصاف رسانی کو ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغ میں اگر ایک درخت پھولے پھلے اور دوسرے سوکھ جائیں تو اس سے باغ کی شان متاثر ہوتی ہے۔ چیف منسٹر اسی نظریہ کے تحت تمام طبقات کے ساتھ انصاف کے ذریعہ تلنگانہ کو ایک خوشنما باغ میں تبدیل کرچکے ہیں۔ انہوں نے اقلیتی اقامتی اسکولوںکے قیام کا حوالہ دیا اور کہا کہ شادی مبارک اسکیم کے تحت 75116 روپئے کی موجودہ امدادی رقم میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشیرآباد حلقہ کی صرف ایک مسجد کو گرانٹ اِن ایڈ کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مساجد کی جو فہرست انہوں نے روانہ کی تھی وہ کہاں غائب ہوگئی۔ انہوں نے دیگر مساجد کیلئے بھی گرانٹ اِن ایڈ منظور کرنے کا مشورہ دیا۔ حکومت کے مشیر اے کے خاں نے کہا کہ گرانٹ اِن ایڈ کے تحت ہر سال 30 تا35 کروڑ روپئے مختص کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں یہ کام اطمینان بخش نہیں تھا لیکن چند ماہ سے اس اسکیم کو بہتر بنانے کیلئے توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا صحیح استعمال ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ اے کے خاں نے بتایا کہ رمضان کی آمد سے کافی قبل ہی انتظامات کو قطعیت دینے کیلئے اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہاکہ پولیس ایکشن کے بعد کے سی آر تلنگانہ کے نمبر ون چیف منسٹر ہیں جو ہر طبقہ کی بھلائی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں چیف منسٹرس صرف زبانی وعدے کرتے رہے لیکن کے سی آر نے وعدوں پر عمل کیا۔ محمد سلیم نے کہا کہ 13 برس کی عمر سے وہ تجارت اور سیاست میں ہیں اور 12 چیف منسٹروں کے کام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا لیکن کے سی آر جیسا چیف منسٹر انہوں نے آج تک نہیں دیکھا۔ بی جے پی فلور لیڈر کشن ریڈی نے کہا کہ مندر، مسجد اور چرچ قابل احترام مقامات ہیں اور ان کی ترقی پر توجہ دینی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ انسان گھر میں چاہے وہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو اپنے دل کی بات نہیں رکھ سکتا لیکن مسجد، مندر اور چرچ میں خدا کے آگے اپنے دل کی بات پیش کرتے ہوئے دعا کرتا ہے۔ اس طرح کے متبرک اور قابل احترام مقامات کو ہر طرح سے مقدس رکھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کے اندر اور باہر ماحولیات کے تحفظ پر توجہ دی جائے اس کے علاوہ وضو خانے، طہارت خانے، پینے کے پانی کا انتظام، بہتر برقی اور دیگر بنیادی سہولتوں پر توجہ دی جائے تاکہ مسجد کو آنے والوں کو کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو۔ کشن ریڈی نے بتایا کہ عنبر پیٹ کی 30 مساجد کے نام انہوں نے تجویزکئے تھے جن میں سے 10 کو منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے باقی مساجد کو دوسرے مرحلہ میں گرانٹ اِن ایڈ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین اور عوامی نمائندوں نے بھی مخاطب کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر داخلہ کے ہاتھوں مساجد کمیٹیوں میں چیکس تقسیم کئے گئے۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر حیدرآباد محمد قاسم نے استقبال کیا۔

TOPPOPULARRECENT