Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / شہر کے بس اسٹاپس شرابیوں اور منشیات کے عادی افراد کا مسکن

شہر کے بس اسٹاپس شرابیوں اور منشیات کے عادی افراد کا مسکن

حیدرآباد ۔ 13 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : شہر کے بیشتر بس اسٹاپ خاص کر پرانے شہر کے بس اسٹاپ مسافرین کے استعمال کے لیے کم ، آوارہ ، بدقماش اور نشے کے عادی افراد کے لیے زیادہ استعمال ہورہا ہے ۔ محکمہ بلدیہ کے اعلیٰ عہدیدار جب کبھی زیادہ مہربان ہوتے ہیں تو دوچار بس اسٹاپ تعمیر کرادیتے ہیں مگر اس کا مقصد بھی صرف ’تشہیری بورڈ ‘ کے طور پر استعمال کر کے پیسہ کمانا ہوتا ہے ۔ مسافرین کی سہولت سے اسے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو پرانے شہر کے بس اسٹاپ خاص کر چارمینار ، دارالشفاء ، انجن باولی ، شاہ علی بنڈہ ، موتی گلی ، چندرائن گٹہ ، حسینی علم اور زو پارک کے قریب موجود بس اسٹاپس کو دیکھ کر اس حقیقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ جہاں پر اس قدر گندگی ہے کہ مہذب مرد و خواتین بیٹھنا تو دور ٹھہرنا بھی پسند نہیں کرتے ۔ دراصل ان بس اسٹاپ کو آوارہ اور نشے کے عادی افراد اپنی غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لیے استعمال کررہے ہیں اور جو گڑمبہ استعمال کر کے وہیں پر سوجاتے ہیں ۔ بعض مقامات پر تو کچرا کنڈی کے طور پر بھی استعمال کیا جارہا ہے جس سے بدبو اور تعفن پیدا ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ متعلقہ محکمہ یا محکمہ پولیس ایسے افراد کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے ؟ خاص کر محکمہ بلدیہ جو اس کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے اور جو ان بس اسٹاپ کو تشہیر کے لیے استعمال کر کے لاکھوں روپئے کی کمائی کررہا ہے ۔ وہ ان اسٹاپس کی مینٹننس پر توجہ کیوں نہیں دیتا ؟ تقریبا 6 مہینہ قبل جی ایچ ایم سی اسپیشل آفیسر مسٹر سومیش کمار نے شہر میں مزید 50 نئے بس اسٹاپس تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا مگر آج تک وہ اپنے وعدے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس شہر کو سائبر سٹی کہا جاتا ہے تو ان بس اسٹاپس پر سی سی کیمرے کیوں نہیں لگائے جاتے ؟ اس سے غیر عناصر کی سرگرمیوں کا بھی پتہ چلایا جاسکے گا ۔ اور غیر اخلاقی حرکتوں پر بھی روک لگانے میں کامیابی ملے گی ۔ بہر حال عوام کا مطالبہ ہے وہ جلد سے جلد عوام کو ہونے والی ان پریشانیوں سے نجات دلائیں اور مذکورہ مسئلے کی یکسوئی کو یقینی بنائیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT