Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / شہر کے دو رئیل اسٹیٹ تاجرین پر انکم ٹیکس دھاووں کا معاملہ

شہر کے دو رئیل اسٹیٹ تاجرین پر انکم ٹیکس دھاووں کا معاملہ

مرکزی وزارت فینانس کے اعلی عہدیدار بھی متوجہ ‘ رپورٹ کی طلبی
تاجرین کی عنقریب محکمہ انکم ٹیکس میں طلبی کا امکان ۔ فون کال ریکارڈز کی بنیاد پر مزید افراد کے خلاف کارروائی ممکن
حیدرآباد۔/27اکٹوبر، ( سیاست نیوز) پرانے شہر کے 2 رئیل اسٹیٹ تاجرین پر ہوئے محکمہ انکم ٹیکس کے دھاوؤں کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ دو دن سے مکانات ، شادی خانوں اور دفاتر پر کی گئی تلاشی کے دوران کئی انکشافات ہونے کی اطلاع ہے جس کے پیش نظر نئی دہلی میں محکمہ فینانس کے اعلیٰ عہدیداربھی اس سارے مسئلہ پر توجہ مرکوز کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ رئیل اسٹیٹ تاجرین کی جانب سے گینگسٹر نعیم کو 5 کروڑ کی نقد رقم بطور تاوان حوالے کرنے، بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری اور کروڑہا روپئے کی جائیدادوں کا پتہ لگائے جانے کے بعد نئی دہلی کے انکم ٹیکس کے اعلیٰ سطح کے عہدیداروں نے اس معاملہ کی رپورٹ طلب کی ہے جبکہ اس سلسلہ میں بڑے پیمانے پر کارروائی کئے جانے کی اطلاع ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ آپسی اختلافات کے سبب دہلی میں واقع محکمہ فینانس کو رئیل اسٹیٹ تاجرین کی حاصل کی گئی دولت اور جائیدادوں کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی جس کے بعد ان کے خلاف یہ کارروائی کی گئی۔ گزشتہ دو دن سے جاری رہے محکمہ انکم ٹیکس کے دھاوؤں سے عوام میں یہ بات موضوع بحث ہے کہ کیا رئیل اسٹیٹ تاجرین کو قائدین کی سرپرستی اچانک ختم ہوگئی ہے ؟

اورکس کی ایماء پر یہ دھاوے کروائے گئے ہیں۔ حیدرآباد کے انکم ٹیکس دفتر میں آج اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں نئی دہلی کو روانہ کی جانے والی خصوصی رپورٹ سے متعلق تبادلہ خیال کی اطلاع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رپورٹ پر مرکزی محکمہ فینانس کی جانب سے رئیل اسٹیٹ تاجرین کے خلاف مزید کارروائی کی ہدایت دی جائے گی اور ان سے جڑے تمام افراد کے خلاف بھی کارروائی کا منصوبہ ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ انکم ٹیکس دھاوؤں کے دوران ضبط کئے گئے دستاویزات اور فرضی کمپنیوں کے ریکارڈز کے جائزہ کے بعد سنٹرل انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ بھی مداخلت کرسکتی ہے۔ اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ دھاوؤں سے قبل رئیل اسٹیٹ تاجرین کے موبائیل فونس کے ریکارڈز پر بھی کڑی نظر رکھی جارہی تھی جس میں محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیداروں نے ایسے افراد کا پتہ لگایا ہے جن کے پاس بھی بے نامی جائیدادیں موجود ہیں اور ان کے خلاف بھی عنقریب کارروائی کئے جانے کی اطلاع ہے۔

واضح رہے کہ متذکرہ رئیل اسٹیٹ تاجرین میں سے ایک تاجر نے بدنام زمانہ گینگسٹرنعیم کو سات گنبد کے قریب اراضی معاملات میں مداخلت کے نتیجہ میں اس کااغوا کئے جانے کے بعد گزشتہ سال 8 اگسٹ 2016 کو کئے گئے انکاؤنٹر سے 3 گھنٹے قبل 5 کروڑ روپئے بطور تاوان حوالے کی تھی جبکہ ایک اور رئیل اسٹیٹ تاجر کے مکان، دفاتر اور شادی خانوں سے کروڑہا روپئے کے اثاثہ جات اور جائیدادوں کا پتہ لگایا گیا جو شہر کے پاش علاقوںمیں موجود ہیں۔ بڑے پیمانے پر کی گئی اس کارروائی کے بعد محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیداروں نے اس معاملہ کی ہر کڑی کو جوڑنے کی غرض سے محکمہ فینانس کے ماہرین سے رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ شاہنواز خان اور سید اختر کو عنقریب نوٹس جاری کرکے حیدرآباد انکم ٹیکس آفس طلب کیا جائیگا تاکہ ضبط دستاویزات اور دیگر اشیاء سے متعلق ان کا بیان قلمبند کیا جاسکے ۔ سیاسی قائدین سے دوستی کے نتیجہ میں انکم ٹیکس دھاوؤں کے حقائق کو ترجمان عوام کے سامنے لانے سے گریز کررہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT