شہر کے پاسپورٹس سیوا کیندر پر عوام کا اژدھام ‘سنٹرس میں اضافہ کی ضرورت

درخواست گذار گھنٹوں قطاروں میں ٹھہرنے پر مجبور ‘درخواستوں کی تنقیح میں تاخیر

درخواست گذار گھنٹوں قطاروں میں ٹھہرنے پر مجبور ‘درخواستوں کی تنقیح میں تاخیر
حیدرآباد 25 اگست (سیاست نیوز) شہر میں موجود تین پاسپورٹ سیوا کیندر عوام کیلئے ناکافی ثابت ہورہے ہیں بلکہ ان پاسپورٹ سیوا کیندروں میں عوام کے اژدہام کے باعث درخواست گذاروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ پاسپورٹ سیواکیندرا کاقیام عوام کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے عمل میں آیا تھا لیکن یہ پاسپورٹ سیوا کیندر درخواست گذاروں کے لئے تکلیف کاباعث بنتے جارہے ہیں ۔ پاسپورٹ عہدیداروں کے بموجب ایک درخواست گذار کی درخواست کی تنقیح و ادخال کیلئے جملہ 90 منٹ کا وقت درکار ہوتا ہے لیکن فی الحال ٹولی چوکی ‘ امیر پیٹ اور بیگم پیٹ پر درخواست گذاروں کو زائد از چھ گھنٹے درخواستوں کے ادخال کیلئے لگ رہے ہیں جو کہ کافی تکلیف دہ ثابت ہورہے ہیں۔ درخواست گذار ایک مرتبہ پی ایس کے میں داخل ہونے کے بعد اسے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ اسی لئے وہ درخواست کے ادخال کیلئے انتظار کرنے پر مجبور ہے۔ شہر میں موجود تین پاسپورٹ سیوا کیندر کے علاوہ پرانے شہر کے علاقہ میں پاسپورٹ سیوا کیندر یا منی پاسپورٹ سیوا کیندر کے قیام کے متعلق متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ پرانے شہر کے عوام ٹولی چوکی یا بیگم پیٹ کا رخ کرنے پر مجبور ہیں اور ان پاسپورٹ سیوا کیندروں پر نہ صرف حیدرآباد و سکندرآباد بلکہ تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے درخواست گذار بھی پہنچ رہے ہیں ۔ پرانے شہر کیلئے علحدہ پاسپورٹ سیوا کیندر یا منی پی ایس کے قائم کئے جانے کی صورت میں حیدرآباد کے عوام کو کافی سہولت ہونے کی توقع ہے لیکن اس کے باوجود مرکزی وزارت خارجہ کی جانب سے اس مسئلہ پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ پاسپورٹ سیوا کیندروں میں تاخیر کے علاوہ دیگر شکایات روز کا معمول بن چکاہے ۔ اس کے باوجود محکمہ کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاتی جس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مرکزی وزارت خارجہ اور پاسپورٹ عہدیدار پاسپورٹ سیوا کیندر عملہ کے آگے بے بس ہیں اور وہ اُن کے کسی بھی عمل میں مداخلت کرنا نہیںچاہتے کیونکہ پاسپورٹ سیوا کیندر کودرخواست کے حصول کیلئے مکمل طور پر مجاز گردانہ گیا ہے اور اسی مقام پر درخواست کے ادخال کے علاوہ درخواستوں کی تنقیح کا عمل مکمل کیا جارہا ہے ۔ پرانے شہر کے علاقوں چارمینار‘چندرائن گٹہ ‘ یاقوت پورہ ‘ ملک پیٹ ‘ دلسکھ نگر ‘سعید آباد ‘ حسینی علم ‘ بہادر پورہ ‘ حسن نگر ‘ شاہ علی بنڈہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں اگر پرانے شہر کے کسی مرکزی مقام پر منی پاسپورٹ سیوا کیندر قائم کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں نہ صرف موجودہ پاسپورٹ سیوا کیندروں پر ہجوم میںکمی واقع ہوگی بلکہ پرانے شہر کے عوام کو بھی راحت ملے گی۔

TOPPOPULARRECENT